data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نیو کراچی کے ٹاؤن چیئرمین محمد یوسف، نارتھ ناظم آباد کے چیئرمین عاطف علی خان اور ماڈل ٹاؤن کے چیئرمین ظفر احمد خان نے شہر میں حالیہ بارش کے بعد سڑکوں، گلیوں اور نالوں کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا مکمل ذمہ دار میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیر بلدیات کو قرار دیا ہے۔

تینوں ٹاؤن چیئرمینوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شہر میں بارش کے بعد نالوں کے اُبلنے، پانی کے جمع ہونے اور سڑکوں کے تباہ حال ہونے نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ شہری مسائل کے حل کے بجائے میئر کراچی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ٹاؤن چیئرمینوں پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے لیے 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود صفائی وقت پر مکمل نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں تھوڑی سی بارش نے شہر کا نظام درہم برہم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نالوں کی بروقت صفائی کرے لیکن ہماری متعدد بار نشاندہی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

ٹاؤن چیئرمینوں نے میئر کراچی کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے روڈ کٹنگ چارجز کو تاخیر کی وجہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن انتظامیہ گیس کمپنی کے کام مکمل ہونے کے بعد ہی سڑکوں کی مرمت کا آغاز کرتی ہے، اور اس کو جواز بنا کر میئر کراچی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے مزید کہاکہ شہر کی مرکزی سڑکیں جو کے ایم سی اور وزارت بلدیات کے ماتحت ہیں، پہلے ہی خستہ حالی کا شکار تھیں اور اب بارش کے پانی کے بعد مزید خراب ہو چکی ہیں۔ اگر سڑکوں کی حالت بہتر کی جاتی اور نالوں کی وقت پر صفائی کی جاتی تو شہریوں کو یہ اذیت نہ جھیلنی پڑتی۔

ٹاؤن چیئرمینوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کو چاہیے کہ وہ سیاسی بیانات دینے اور خط لکھنے کے بجائے اپنی اصل ذمہ داریاں پوری کریں، کیونکہ ان کی نااہلی نے شہر کو بارش کے بعد بدترین صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس ناانصافی اور بدانتظامی کے خلاف آواز بلند کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹاؤن چیئرمینوں میئر کراچی نالوں کی انہوں نے بارش کے کے بعد کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا