جلوس کے راستے مکمل طورپرکلیئرکرائے جائیں‘محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) نیو کراچی ٹاؤن میں رین ایمر جنسی نالہ صفائی ہنگامی بنیادوں پر جاری۔حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے نیو کراچی ٹاؤن کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا۔چیئرمین محمد یوسف نے بارش کے پانی کی نکاسی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نالوں میں کچرے اور پانی کی رکاوٹ کو دیکھ کر فوری طور پر صفائی ستھرائی کے احکامات جاری کیے اور اپنی نگرانی میں نالوں کی صفائی کا کام مکمل کرایا۔ انہوں نے مین روڈز، جلوسوں کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں کے اطراف خصوصی صفائی کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام اہم راستے جلوسوں سے قبل مکمل طور پر کلیئر کرائے جائیں تاکہ عوام اور عزاداران کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔دورے کے دوران چیئرمین محمد یوسف کو مقامی شہریوں اور علاقہ مکینوں نے بارش کے بعد گلی محلوں میں پانی جمع ہونے، سڑکوں پر کیچڑ اور نالوں کی بندش کی شکایات بھی کیں۔ جس پر چیئرمین نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت دی کہ گلی محلوں اور نشیبی علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر پانی نکالا جائے اور فوری طور پر صفائی کا انتظام کیا جائے۔انہوں نے امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف صفائی اور اسپرے مہم شروع کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں تاکہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں کا سدباب کیا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد یوسف
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔