پاپوش نگر ‘مومن آباد میں کرنٹ لگنے سے دونوجوان جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات و واقعات کے دوران 5 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔پاپوش تھانے کی حدود ناظم آباد پاپوش نگر چاندنی چوک خیبر مسجد کے قریب ایک گھر میں کرنٹ لگنے سے 16 سالہ عبدالہادی ولد راحت جاں بحق ہو گیا۔ مومن آباد تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن 10 نمبر تاج لسی (کے کے ابدال اسکول) کے قریب گھر میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے 25 سالہ کامران ولد رحمت اللہ جاں بحق ہو گیا۔ کورنگی ابراہیم حیدری بنگالی دکّا کے قریب سمندر سے 15 سالہ بچے کی ڈوبی ہوئی لاش ملی۔ لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں تاحال اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ پاک کالونی تھانے کی حدود پرانا گولیمار بسم اللہ ہوٹل بنگالی مسجد کے قریب سے 35 سالہ شخص کی لاش ملی جس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ لاش کو قانونی کارروائی کے بعد سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔ ڈیفنس تھانے کی حدود سے ایک شخص کی لاش ملی جس کی شناخت نہ ہو سکی۔ لاش کو جناح اسپتال سے ضابطے کی کارروائی کے بعد ایدھی ہوم سہراب گوٹھ سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھانے کی حدود کے قریب
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔