کراچی: خواجہ سراؤں سے دوستی پر سفاک باپ کے ہاتھوں نوجوان بیٹے کا لرزہ خیز قتل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
شہر قائد میں ایک باپ نے خواجہ سراؤں سے دوستی پر نوجوان بیٹے کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا جب کہ کراچی پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اورنگی ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک 21 سالہ نوجوان کو اس کے والد نے قتل کر دیا۔
علاقہ ایس ایچ او شیر کہا کہ پولیس نے اورنگی تاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میں علی خان نامی نوجوان کو بیلچے کے وار سے قتل کرنے کے الزام میں اس کے والد کو گرفتار کر لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے کہا کہ اس کے بیٹے کے خواجہ سرا افراد سے دوستی تھی، والد کا کہنا تھا کہ اس نے بیٹے کو کئی بار خواجہ سراؤں سے دور رہنے کا کہا لیکن وہ باز نہ آیا۔
والد نے بتایا کہ پہلے اس نے بیٹے کو بجلی کے جھٹکے دیے، اور بعد ازاں بیلچے کے وار سے قتل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ملزم مذہبی رجحان رکھتا ہے اور اس نے قتل پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار نہیں کیا، پولیس اس بات کی طبی تصدیق کا انتظار کر رہی ہے کہ کیا واقعی مقتول کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قتل کر
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔