Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:26:48 GMT

پاکستانی ڈاکٹر کی چین میں کام اور دوستی کی 6 سالہ کہانی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

پاکستانی ڈاکٹر کی چین میں کام اور دوستی کی 6 سالہ کہانی

گوئی یانگ(شِنہوا)پاکستانی طبی ماہر سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین میں اپنے 6 سالہ قیام کے دوران نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر ترقی کی بلکہ ذاتی زندگی میں بھی بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی کو بھی قریب سے دیکھا۔
شاہ نے کہا کہ بچپن سے پاک چین دوستی کے بارے میں معلوم تھا لیکن کبھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ دوستی چینی معاشرے میں اس قدر گہرائی سے رچی بسی ہوئی ۔

2018 میں شاہ کو چین کے وسطی شہر ووہان میں واقع ہواژونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تھونگ جی میڈیکل کالج میں پی ایچ ڈی کے لئے سکالرشپ ملی۔
وہ رات کے وقت ووہان پہنچے تو شہر کی رونق نے انہیں متاثر کیا۔ اگلی صبح جب انہوں نے ہر طرف سبزہ اور مصروف زندگی دیکھی تو وہ ان مناظر سے بہت متاثر ہوئے جو ان کے سابقہ تجربات سے بالکل مختلف تھے۔

ووہان میں دوران تعلیم شاہ کا زیادہ تر علمی کام ایک مضافاتی لیبارٹری میں ہوتا تھا جہاں ہمسایوں کے ساتھ روزمرہ میل جول نے انہیں چینی زبان سیکھنے کی ترغیب دی۔
2020 میں جب ووہان میں کووڈ-19 وبا پھیلی تو شاہ نے شہر میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا جسے ان کے خاندان نے بھی سراہا۔ اس دوران وہ چین کے ردعمل کے عینی شاہد رہے اور انہوں نے وبا کے دوران 2 اہم تحقیقی مقالے شائع کئے۔

2021 میں شاہ نے بحالی طب اور فزیکل تھراپی میں پی ایچ ڈی مکمل کی جس کے بعد انہیں شین زین میں کھیلوں کے بین الاقوامی بحالی مرکز میں ملازمت ملی۔ اپریل 2022 سے وہ گوئی ژو بیورو آف سپورٹس کے تحت چھنگ ژین سپورٹس ٹریننگ بیس میں بحالی کے ماہر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شاہ نے کہا کہ گوئی ژو میں بحالی کے ماہرین کی کمی ہے اور میں یہاں مضبوط مقامی پیشہ ور ٹیم بنانے میں مدد کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ کھلاڑیوں کو جلد صحت یاب ہونے میں مدد دے کر انہیں مقابلوں کے لئے تیار کر رہے ہیں۔

شاہ کا کہنا تھا کہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ چینی لوگ پاکستان کے بارے میں کتنی گہری معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے آپ چین میں کسی دفتری ملازم، سکول کے بچے، کسان یا دکاندار سے ملیں وہ سب پاک چین دوستی کے بارے میں جانتے ہیں اور آپ کو مسکرا کر خوش آمدید کہیں گے۔

شاہ نے مزید کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو بہتر بنانے میں مدد دی اور عوامی سطح پر تعلقات کو گہرا کیا، جو اس دوستی کے “فولاد کی طرح مضبوط” ہونے کا ثبوت ہے۔
سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ چین مشکل وقت کا سچا دوست ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے شاہ کا شاہ نے کہا کہ

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ