گورنر سندھ کی ایرانی سفارتخانے آمد، اسرائیلی جارحیت پر شدید مذمت اور یکجہتی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
گورنر سندھ نے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سفارتخانے کی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے، ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی صحت اور سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خطے میں حالیہ اسرائیلی جارحیت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گورنر سندھ نے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سفارتخانے کی تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔ گورنر سندھ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی صحت اور سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایرانی سفیر نے گورنر سندھ کو حج کی سعادت پر مبارکباد دی اور ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ ایرانی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتِ پاکستان کی مشکل وقت میں بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت گورنر سندھ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔