خلاف ضابطہ ملازمت حاصل کرنے والوں کے نام،عدالت عالیہ کے حکم پر پبلک سروس کمیشن کو ارسال
شناختی کارڈ ، تعلیمی اسناد ،صحافتی تجربہ ، ملازمت کا لیٹر، پے سلپ ، پوسٹنگ آڈر،7 دن میں جمع کروانے کا حکم

محکمہ اطلاعات سندھ میں سفارش پر بھرتی36انفارمیشن افسران کو تعلیمی اسناد پبلک سروس کمیشن میں جمع کروانے کی ہدایت، انفارمیشن افسران میں وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے چہیتے دانش میمن، کینجھر فیاض، زبیر میمن، شرمین شفیق و دیگر شامل۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت سندھ میں محکمہ اطلاعات میں36انفارمیشن افسران کو قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتی کیا گیا، سفارشی لوگوں کی بھرتی پر کچھ امیدواروں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، سندھ ہائی کورٹ نے17اپریل2025ء کو احکامات جاری کئے، جس کے بعد محکمہ اطلاعات نے36انفارمیشن افسران کی فہرست سندھ پبلک سروس کمیشن کو ارسال کی، کمیشن نے36 انفارمیشن افسران کو ہدایت کی ہے کہ قومی شناختی کارڈ، تین تصدیق شدہ تصاویر، میٹرک، انٹر اور گریجوئیشن کی تعلیمی اسناد، ماس کمیونیکیشن کی ڈگری کے ساتھ صحافت میں3 سے5سال کا تجربہ، ڈومیسائل پی آر سی، اپائنٹمنٹ لیٹر، کانٹریکٹ کی مدت میں اضافہ، پے سلپ اور موجودہ پوسٹنگ آرڈر7دن کے اندر جمع کروائیں۔ انفارمیشن افسران میں عبدالوہاب، صابر رشید، شرمین شفیق، امان اللہ چنہ، عرفان جونیجو، رحیم بخش، شیر محمد، عرفان خان، غلام رضا، امداد علی، حسن لطیف، معراج احمد، عبدالقیوم، شکیل احمد، ذوالفقار شورو، علی مراد پتافی، سرفراز سموں، ذیشان علی، جان محمد، آصف ڈیرو، کینجھر فیاض، نواز علی دانش میمن، عدنان خان، سبین فاروقی، سیف اللہ بھن، عباس شاہ، محسن حسن، علی احمد راجپوت، کامران احمد، لیاقت علی، زبیر میمن، سہیب احمد، شبیر علی، غلام مصطفی شاہ، الاب علی اور کاشف علی مگسی شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن