محض تقریر میں خلل ڈالنے پر نااہلی کا مطالبہ قابلِ قبول نہیں: رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
میاں رضا ربانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ محض تقریر میں خلل ڈالنے پر 26 اپوزیشن ارکان کی نااہلی کیلئے ریفرنس بھیجنا افسوسناک ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بیان میں کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کا 26 اپوزیشن ارکان کی نااہلی کےلیے ریفرنس بھیجنا افسوسناک ہے اور یہ مطالبہ قابل قبول نہیں۔
رضا ربانی نے کہا کہ ایوان میں احتجاج پارلیمانی روایت کا حصہ ہے، ماضی میں صدر اور وزیرِخزانہ کی تقاریر بھی متاثر ہوچکی ہیں۔
اسلام آباد سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے.
سابق چیئر مین سینٹ نے بتایا کہ اسپیکر کو معطلی یا دیگر کارروائی کا اختیار قواعد و ضوابط میں موجود ہے اور اسپیکر کا اپنے ہی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواست دینا منصب کے شایانِ شان نہیں۔
رضا ربانی نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے اسپیکر کی ملاقات غیر مناسب عمل ہے، اسپیکر کا دفتر غیر جانبدار ہوتا ہے، حکومتی اور اپوزیشن ارکان برابر حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ کی تقریر کے دوران اسمبلی میں وڈیوز چلانا نامناسب تھا، اسپیکر پنجاب اسمبلی غیرمناسب پارلیمانی روایت قائم کرنے کے بجائے ریفرنس واپس لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میاں رضا ربانی کہا کہ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔