لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ؛ اموات کی تعداد 26 ہوگئی، ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
کراچی:
لیاری بغدادی میں مخدوش رہائشی عمارت گرنے کے دلخراش واقعے کو تین دن گزر گئے، تاہم ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے جبکہ ملبے سے اب تک 26 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
بغدادی میں مخدوش رہائشی عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام تیسرے روز بھی جاری ہے، رات گئے بچی سمیت مزید 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق عمارت کے ملبے سے اب تک 26 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں 9 خواتین، 15 مرد، ایک 10 سالہ بچہ اور ڈیڑھ سالہ بچی شامل ہیں۔
جاں بحق بچی کی شناخت ڈیڑھ سالہ مقدس جبکہ ایک اور لاش کی شناخت شعیب کے نام سے کی گئی ہے، لاشوں کی شناخت اہل خانہ نے خود کی۔ تیسری لاش کی شناخت تاحال نہیں کی جا سکی ہے۔ جیسے جیسے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، لاشیں برآمد ہوتی جا رہی ہیں۔
تاحال ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، جس کے باعث اسکینرز کی مدد سے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔
حکام 1122 کے مطابق آپریشن کے دوران 3 مختلف مقامات سے نقدی، چیک اور زیورات ملے ہیں جو یو سی چیئرمین کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ تاہم علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر موجود ہے، جو اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین دکھائی دیتی ہے۔
ریسکیو، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کا سلسلہ جاری ہے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ عمارت کئی عرصے سے مخدوش قرار دی جا چکی تھی تاہم بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افراد کی کی شناخت جاری ہے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔