بھارتی سرکاری افسران بھی بی جے پی غنڈوں کے ہاتھوں غیر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
منی پور سے کولکتہ اور کشمیر سے اوڈیشہ تک، مودی سرکار کے سیاسی غنڈوں کی ریاستی دہشتگردی عروج پر ہے۔
سرکاری افسران کو دن دہاڑے دفاتر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ’’بھوبنیشور میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسر رتناکر ساہو کو بی جے پی کارکنوں نے دفتر سے گھسیٹ کر سرِعام مارا پیٹا۔ بی جے پی رہنما جگن ناتھ پردھان سے معافی نہ مانگنے پر سینئر سرکاری افسر پر بدترین تشدد کیا گیا۔‘‘
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعے کے بعد اوڈیشہ کے اعلیٰ سرکاری افسران خوفزدہ ہو کر احتجاجاً اجتماعی چھٹی پر چلے گئے، دو روز سے 20 سے زائد اضلاع میں سرکاری افسران کی غیرحاضری کے باعث انتظامی امور مکمل طور پر مفلوج ہوگیا۔
اوڈیشہ ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن نے کہا مودی سرکار کی خاموشی غنڈہ گرد عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ بی جے پی کارکن مودی سرکار کی پشت پناہی کے باعث قانون ہاتھ میں لینے سے نہیں گھبراتے۔
ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر بی جے پی رہنما جگن ناتھ پردھان کو گرفتار کیا جائے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اس حملے سے اوڈیشہ کے سرکاری افسران کا مورال مکمل طور پر تباہ، وہ اب دفاتر میں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ریاست کے اعلیٰ افسران نے اس وقت تک ڈیوٹی پر واپس نہ آنے کا اعلان کیا جب تک بی جے پی رہنما کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی نہیں ہوتی۔
اوڈیشہ واقعے نے مودی کی نام نہاد گڈ گورننس کو بے نقاب کر دیا۔ مودی سرکار نے بھارت کو جمہوریت کے بجائے ہندو انتہا پسندی اور ریاستی دہشت گردی کا مرکز بنا دیا۔
مودی سرکار سیاسی غنڈوں کی سرپرستی کرکے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے قتلِ عام کی مرتکب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری افسران مودی سرکار بی جے پی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔