data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاڑکانہ: تحصیل ڈوکری کے نواحی گاؤں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کی چار کمسن بچیاں تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یہ بچیاں اپنے والدین سے ملاقات کے لیے کھیتوں کی طرف گئی تھیں لیکن واپس نہ آئیں، گھر والوں نے جب تلاش شروع کی تو کھیتوں کے قریب واقع تالاب سے ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت 5 سالہ بشریٰ، 6 سالہ فاطمہ، 7 سالہ حمیرا اور 8 سالہ آمنہ کے نام سے ہوئی ہے۔ دل دہلا دینے والے اس واقعے نے پورے علاقے کو غم کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچیوں کی لاشیں تالاب سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیں۔ جیسے ہی لاشیں گاؤں پہنچیں، ہر طرف کہرام مچ گیا اور فضاء ماتم کدے میں بدل گئی۔

اہل علاقہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کے تالابوں کے گرد حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دل خراش سانحات سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا