زمبابوے کے خلاف جاری دوسرے ٹیسٹ میچ میں تاریخی کارکردگی دکھانے والے جنوبی افریقہ کے کپتان ویان ملڈر نے دنیا کے عظیم بلے باز برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ توڑنے کا موقع جان بوجھ کر چھوڑ دیا۔

ویان ملڈر نے ناقابلِ شکست 367 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 49 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے، اور وہ صرف 33 رنز کی دوری پر تھے کہ انہوں نے ٹیم کی اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کر لیا، حالانکہ وہ باآسانی تاریخ رقم کرسکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: برائن لارا کا ریکارڈ 21 سال بعد ٹوٹ سکتا تھا، مگر ’چوکرز‘کے غلط فیصلے نے موقع گنوا دیا؟

میچ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے ویان ملڈر نے کہا ’سچ پوچھیں تو میں نے کبھی خواب میں بھی ڈبل سنچری کا نہیں سوچا تھا، ٹرپل سنچری تو بہت دور کی بات ہے۔ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیم کو کامیابی کی پوزیشن میں لا سکوں۔‘

انہوں نے کہا کہ برائن لارا ایک لیجنڈ ہیں اور ان کا ریکارڈ ویسا ہی رہنا چاہیے جیسے انہوں نے بنایا تھا۔ ’میں نے کوچ شکری کونراڈ سے بات کی اور یہی طے کیا کہ لیجنڈز کا ریکارڈ انہی کے پاس رہنا چاہیے۔ لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ ویسا ہی خاص ہے جیسا وہ خود ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: گریٹ برائن لارا نے پاکستان کے کس کھلاڑی کو خطرناک ترین بولر قرار دیا؟

ویان ملڈر کی اس اننگز نے جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ تاریخ کا نیا باب رقم کیا ہے، کیونکہ یہ جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے بڑی انفرادی ٹیسٹ اننگز ہے، جو ہاشم آملہ کے 311 رنز ناٹ آؤٹ کے ریکارڈ سے بھی بڑی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی چند بڑی اننگز

 400 رنز ناٹ آؤٹ – برائن لارا (ویسٹ انڈیز) بمقابلہ انگلینڈ، 2004

380 – میتھیو ہیڈن (آسٹریلیا) بمقابلہ زمبابوے، 2003

 375 – برائن لارا (ویسٹ انڈیز) بمقابلہ انگلینڈ، 1994

 374 – مہیلا جے وردھنے (سری لنکا) بمقابلہ جنوبی افریقا، 2006

 367 ناٹ آؤٹ – ویان ملڈر (جنوبی افریقا) بمقابلہ زمبابوے، 2025

ویان ملڈر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جب انہوں نے جنوبی افریقہ کے لیے کرکٹ کا آغاز کیا، تب وہ خود کو اس معیار کا کھلاڑی نہیں سمجھتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: آنے والے دنوں میں شبمن گل کی کرکٹ پر حکمرانی ہوگی میری بات لکھ لیں، برائن لارا

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کھیلنے کا تجربہ میرے لیے بہت فائدہ مند رہا۔ وہاں میں نے اپنی خامیوں کو پہچانا اور جانا کہ مجھے کس طرز کا بلے باز بننا ہے۔

ایک موقع پر جب وہ 247 پر کھیل رہے تھے، تو ایک نو بال پر بولڈ ہو گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس لمحے بہت منفی خیالات آ رہے تھے، لیکن انہوں نے خود کو سنبھالا، گانا گنگناتے رہے، اور اپنی موجودگی کو برقرار رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

400 رنز برائن لارا جنوبی افریقہ ریکارڈ زمبابوے ویان ملڈر ویسٹ انڈیز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برائن لارا جنوبی افریقہ ریکارڈ زمبابوے ویان ملڈر ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ ویان ملڈر نے برائن لارا کا ریکارڈ انہوں نے لارا کا یہ بھی

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا