پنجاب میں موسلادھار بارشیں، وزیراعلیٰ مریم نواز کا اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
پنجاب بھر میں جاری موسلادھار بارشوں کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی ممکنہ مشکل سے بچایا جا سکے وزیراعلیٰ نے واسا پی ڈی ایم اے لوکل گورنمنٹ ریسکیو 1122 اور ٹریفک پولیس کو فیلڈ میں موجود رہنے اور حالات کی مسلسل نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے انہوں نے واسا اور انتظامیہ کے افسران کو خود فیلڈ میں نکل کر نکاسی آب کے اقدامات کی نگرانی کی ہدایت بھی دی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو نشیبی علاقوں سے پانی کی بروقت نکاسی یقینی بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس کو خصوصی ٹریفک پلان جاری کرنے اور شہریوں کو متبادل راستوں سے بروقت آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ٹریفک جام اور دیگر مسائل سے بچا جا سکے انہوں نے واضح طور پر ہدایت کی کہ بارش سے پیدا ہونے والی کسی بھی پریشانی کا فوری ازالہ کیا جائے اور تمام ادارے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔