بھارت: والد نے بیٹی کو ٹینس اکیڈمی چلانے کے ’جرم‘ میں گولیوں سے چھلنی کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
25 سالہ ٹینس کھلاڑی رادھیکا یادو کو ان کے والد دیپک یادو نے اس کے ٹینس اکیڈمی چلانے کے تنازعے پر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ یہ افسوسناک واقعہ بھارت کے شہر گروگرام میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق دیپک یادو نے اپنی لائسنس یافتہ ہتھیار سے 3 گولیاں اپنی بیٹی پر چلائیں۔ اس کے بعد دیپک یادو کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ رادھیکا یادو اپنے والد کی مخالفت کے باوجود اپنی ٹینس اکیڈمی چلانے پر بضد تھی، جس پر دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ دیپک یادو، جو اپنے اخراجات کے لیے کرایہ پر انحصار کرتے تھے، اپنی بیٹی کے اس کاروباری فیصلے سے ناخوش تھے۔
بھارتی پولیس کے مطابق بیٹی اور والد کے درمیان تلخ بحث اس وقت ہوئی جب رادھیکا اپنے ٹینس اکیڈمی چلانے پر قائم تھی۔ اس دوران دیپک یادو نے اچانک اپنے ہتھیار سے گولیاں چلائیں۔ رادھیکا زمین پر گر پڑی اور خاندان کے افراد نے فوری طور پر اسے ہسپتال پہنچایا، جہاں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
پولیس نے رادھیکا کے خاندان کے دیگر افراد سے بھی تفتیش کی ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ آیا قتل کے پیچھے کوئی اور محرک تو نہیں تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق جب دیپک نے رادھیکا کو اکیڈمی بند کرنے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ لوگوں کے طعنے دیپک کو مزید غصہ میں ڈال دیتے تھے کہ وہ لڑکی کی کمائی کھا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔