صدر، وزیراعظم کی بلوچستان میں مسافروں کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے ہاتھوں مسافروں کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دہشتگردوں نے بس سے اتار کر بےگناہ شہریوں کو بےدردی سےقتل کیا، یہ بربریت فتنۃ الہندوستان کی پاکستان میں خونریزی کی گھناؤنی سازش ہے۔
صدر نے کہاکہ فتنۃ الہندوستان پاکستان مین انتشار،بدامنی پھیلانا چاہتا ہے، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ نہتے شہریوں کا قتل فتنۃ الہندوستان کی کھلی دہشت گردی ہے،دہشت گردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے، بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ۔
وزیراعظم نے کہاکہ عزم، اتحاد اور طاقت سے دہشت گردی کے ناسور سے نمٹیں گے، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بےگناہ اور معصوم مسافروں کو نشانہ بنانےکی شدید مذمت کرتے ہوئے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کےشریک ہیں، دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا سفاکیت کی انتہا ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کےدہشتگردوں نے بےگناہ لوگوں کو نشانہ بنا کربدترین بربریت کامظاہرہ کیا، انہوں نے کہا کہ بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے اور خاتمہ کریں گے، بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں اور آلہ کاروں کی ہر سازش قوم کی حمایت سےناکام بنائیں گے۔
فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کوئٹہ سے پنجاب جانیوالی 2 بسوں کے9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کردیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔