ایران، نوعمر لڑکی کیساتھ زیادتی اور قتل کے مجرم کو سرعام پھانسی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی حکام نے ہفتے کے روز ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جرم میں سزا یافتہ مجرم کو سرعام پھانسی دے دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتی حکم میں بتایا گیا کہ شمال مغربی شہر بوکان سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کی درخواست پر مجرم کو سرِعام پھانسی دی گئی۔یاد رہے کہ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی میں
بھرپور حصہ لیا اور سرعام پھانسی کا مطالبہ کیا تھا۔عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق صوبائی چیف جسٹس ناصر آتابتی نے کہا کہ یہ کیس عوامی جذبات پر گہرے اثرات کی وجہ سے خصوصی توجہ کا مرکز بنا رہا۔خیال رہے کہ زیادتی وقتل کیس میں اس مجرم کو مارچ میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے بعد میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ عدالت نے برقرار رکھا۔خیال رہے کہ ایران میں عام طور پر قتل یا جنسی زیادتی جیسے سنگین مقدمات میں ملزمان کو میدانوں یا چوراہوں میں سرعام پھانسی دی جاتی ہیں۔ایرانی حکومت اور شہریوں کا کہنا ہے کہ سرعام پھانسی جیسی سزائوں سے ملک میں جرائم کو قابو کرنے میں کامیابی ملتی ہے۔تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل ایران میں سزائے موت کے وسیع استعمال پر شدید تنقید کرتی آئی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والا ملک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرعام پھانسی مجرم کو
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔