خیبر پختونخوا میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 14th, July 2025 GMT
خیبر پختون خوا میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے جس میں کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ میں غیر رجسٹرڈ غیر ملکی کمپنی کو 32 ارب روپے کا مالی فائدہ پہنچایا گیا۔
ان مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف بعض ارکانS خیبر پختون خوا اسمبلی کے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو لکھے گئے خط میں ہوا ہے۔
’جیو نیوز‘ کو حاصل ہونے والے خط میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ میں مبینہ طور پر 32 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران سجاد اللّٰہ، محمد ریاض، آزاد رکن تاج محمد، منیر حسین لغمانی اور پی ٹی آئی کے محمد عارف نے چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو خط لکھا جس میں ٹھیکوں میں خلاف ورزی، انجینئرنگ اور ٹیکس قوانین کی عدم پیروی، مبینہ کرپشن سے متعلق شکایات کیں۔
خط کے مطابق منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور کے پی حکومت کے اشتراک سے ہے، جس کا مقصد پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان اور مینگورہ میں شہری انفرااسٹرکچر اور میونسپل خدمات کو بہتر بنانا ہے۔
جوائنٹ وینچر غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو ٹھیکا دیا گیا ہے۔
کمپنی بولی کے وقت ایف بی آر، کے پی ریونیو اتھارٹی اور نہ ہی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ تھی۔
خط کے مطابق گراؤنڈ پر بہت کم ترقی کے باوجود 32 ارب روپے کمپنی کو جاری کیے گئے ہیں اور جھوٹی پیش رفت رپورٹیں بنا کر ناقص نگرانی، عملہ و مشیروں کی ملی بھگت سے یہ ادائیگیاں کی گئیں، غیرملکی کمپنی نے مبینہ طور پر ٹیکس چوری کیا اور اس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
خط میں معاملہ نیب، ایف بی آر اور دیگر اداروں کو بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔
پی اے سی کے چئیرمین بابر سلیم سواتی نے 17 جولائی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس طلب کر لیا۔
اجلاس میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل (نارتھ)، سیکریٹری مواصلات، سیکریٹری بلدیات کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
پی اے سی نے متعلقہ تمام محکموں کو ان الزامات پر تفصیلی جوابات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔