Express News:
2026-07-24@13:41:57 GMT

پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چین کے سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کا یہ دورہ پاک چین تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان گہرے سیاسی و عسکری تعلقات کا عکاس ہے، پاک فوج کے سربراہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے دارالحکومت بیجنگ میں چین کے نائب صدر ہان ژینگ اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال، پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت روابط کے منصوبے اور مشترکہ جیوپولیٹیکل چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی نوعیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھی دونوں ملکوں کی دوستی کا ڈنکا بجا ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات کی گہرائی اور وسعت پر اطمینان کا اظہار کیا اور خودمختاری، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کو دہرایا ہے۔

چین کی قیادت نے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے کردار اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کا یہ دورہ کثیرالجہتی اہداف کا حامل رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے چین کی فوجی قیادت سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ نے چین کے وائس چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن جنرل ژانگ یوشیا، سیاسی کمشنر، پیپلز لبریشن آرمی جنرل چن ہوئی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل کائی زائی جن سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی و سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی، مشترکہ تربیتی مشقوں، دفاعی جدیدیت اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

ہائبرڈ اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشنل ہم آہنگی اور اسٹرٹیجک تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی عسکری قیادت نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ دفاعی شراکت داری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور دفاعی و عسکری تعاون کو مزید وسعت دینے کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔

پاک فوج کے سربراہ چین کے دورے پر ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمعہ کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں پاک امریکا تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات سمیت اہم شعبہ جات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستا ن اور امریکا کے وزراء خارجہ کی ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی بالمشافہ ملا قات ہے۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک روابط تو ہو چکے ہیں لیکن بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ دوطرفہ تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات سمیت اہم شعبہ جات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی امن کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے میں امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے کردار اور کاوشوں کو لائق تحسین قرار دیا جب کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا اورکہا کہ عالمی و علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ہم پاک، امریکا دوطرفہ تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام کے خواہاں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری ٹریڈ ڈائیلاگ میں مثبت پیش رفت کے حوالے سے بھی پر امید ہیں۔ پاکستان امریکی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش منزل ہے۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی امن کے حوالے سے دونوں ممالک کے نقطہ نظر اورمفادات میں ہم آہنگی ہے۔ امریکا میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبہ جات میں مضبوط اورمنظم روابط استوار کرنے کے ضمن میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا پاکستان، واشنگٹن سے امداد نہیں تجارت چاہتا ہے، امریکی مصنوعات کو پاکستان میں زیادہ رسائی دینے جا رہے ہیں، امریکا کے ساتھ بہت جلد تجارتی معاہدہ ہو جائے گا۔پاکستان امریکی منڈیوں تک مؤثر رسائی چاہتا ہے۔پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکا جاتی ہیں، امریکی مصنوعات کو پاکستان میں زیادہ رسائی دینے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ملاقات مفید رہی،باہمی شراکت داری پر زور دیا گیا۔انھوں نے کہا پاکستان امن پسند ایٹمی ملک ہے، تنازعات کا پرامن حل چاہتاہے،دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے۔پاکستان اپنے کسی بھی پڑوسی کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا، بھارت کی خطے میں اپنی برتری اور تسلط کی کوششیں 7 سے 10 مئی کے دوران دفن کردی گئی ہیں۔

اس کی بالاتری، تسلط اور نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کے دعوے ختم ہوچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارا خطہ تنازعات کے ہوتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتا،مسئلہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے،بھارت نے اگست 2019 ء میں غیرقانونی یکطرفہ اقدامات کیے جو متنازع خطے کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں، جو بین الاقوامی قانون بشمول جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اور یہ کسی کو بھی قابل قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کو گمراہ اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردی کا راگ الاپتا ہے اور یہی اقدام رواں برس 22 اپریل کو کیا،پہلگام واقعے پر پاکستان پر الزامات عائد کیے۔ ہم نے کبھی بھی کشیدگی میں پہل نہیں کی بلکہ فضا اور زمین دونوں میدانوں میں جواب اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت اپنے دفاع کے طور پر دیا لیکن ہم قسمت اور آخری وقت میں مداخلت پر انحصار نہیں کرسکتے۔

پاکستان اپنے کسی بھی پڑوسی کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا، ہم حریف کے طور پر نہیں بلکہ رابطہ کاری کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں جس کی تازہ مثال 17 جولائی کے دورہ کابل کی ہے جہاں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے کے معاہدے ٹرانس افغان ریلوے پر دستخط ہوئے۔ انھوں نے کہا مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے، بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوناچاہیے۔

امریکا اور چین دنیا کی بڑی طاقتیں ہیں۔ دونوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور حاصل ہے۔ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات 76 سال سے بھی زیادہ عرصے سے قائم چلے آ رہے ہیں۔ سرد جنگ کا دور ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا محاذ، پاکستان اور امریکا نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

اسی طرح چین کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ چین پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ان دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا بنیادی اصول ہے۔ آج کا دور تجارت کا دور ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی چپقلش بھی سب کے سامنے ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اسی طرح چین کی خارجہ پالیسی میں بھی معیشت کو اولیت حاصل ہے۔ ان حالات میں پاکستان نے دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر آگے بڑھنا ہے۔ خارجہ پالیسی کی نزاکتوں اور باریکیوں سے آگاہی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنی معیشت کو بھی بہتر رکھنا ہے اور اپنی دفاعی صلاحیت پر بھی کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔

تجارتی حوالے سے بھی امریکا اور چین پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں جب کہ دفاعی حوالے سے بھی دونوں ملک پاکستان کے لیے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کی قیادت پر بڑی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات کو اس انداز میں لے کر آگے بڑھیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا توازن پاکستان کے حق میں رہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں چل رہی ہے۔ پاکستان کی قیادت نے تاحال اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک فوج کے سربراہ ملاقاتیں کی ہیں دونوں ملکوں کے خارجہ پالیسی شعبہ جات میں اسحاق ڈار نے حوالے سے بھی میں پاکستان علاقائی امن اور علاقائی دونوں ممالک کے حوالے سے پاکستان کی پاکستان کے امریکا کے کے درمیان قیادت نے کی قیادت روابط کے کے فروغ میں پاک کرنے کے اور چین کے ساتھ کیا اور چین کے ہے اور امن کے کہا کہ چین کی نے چین نے کہا کے لیے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا