حق دو بلوچستان تحریک کو اسلام آباد جانے کا موقع نہیں دیں گے، طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
لاہور میں جماعت اسلامی کے قائدین کیساتھ ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو ملتان اور لاہور پہنچنے تک حکومت مکمل سکیورٹی دے گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ لاہور میں وفاقی حکومت کی کمیٹی حق دو بلوچستان کے منتظمین سے بات چیت کرے گی، کوشش کی جائے گی مارچ لاہور میں ہی اختتام پذیر ہو، اور اسلام آباد جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے منصورہ لاہور میں مرکز جماعت اسلامی کا دورہ کیا اور جماعت اسلامی کے قائدین کیساتھ ملاقات کی، جس کی اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی بلوچستان کی جانب سے’’حق دو بلوچستان تحریک‘‘ کے لانگ مارچ کے حوالے سے قائم حکومتی کمیٹی کے رکن وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے قائدین نائب امیر لیاقت بلوچ اور سیکرٹری جنرل امیرالعظیم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حق دو بلوچستان مارچ کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں طے پایا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو ملتان اور لاہور پہنچنے تک حکومت مکمل سکیورٹی دے گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ لاہور میں وفاقی حکومت کی کمیٹی حق دو بلوچستان کے منتظمین سے بات چیت کرے گی، کوشش کی جائے گی مارچ لاہور میں ہی اختتام پذیر ہو، اور اسلام آباد جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
جماعت اسلامی کے قائدین نے کہا کہ جماعت اسلامی پُرامن جماعت ہے اور آئین کے مطابق عوام کے حقوق کیلئے جائز اور جمہوری طریقے سے جہدوجہد کرتی ہے۔ حکومت پُرامن مارچ کو سکیورٹی فراہم کرے۔ مارچ کو اسلام آباد اپنی منزل مقصود تک پہنچنے دیا جائے اور حکومت زخم خوردہ اور محرومیوں کا شکار بلوچ عوام کے مطالبات حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ وزیر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ وہ اسی لیے جماعت کے مرکز چل کر آئے ہیں۔ (ن) لیگ اورحکومت نے بلوچستان کے مسائل کو ہمیشہ حل کرنے کیلئے اہمیت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے قائدین حق دو بلوچستان وزیر مملکت لاہور میں کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔