این اے 129 ضمنی الیکشن، ن لیگی رہنما سعد رفیق نے معذرت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 کے ضمنی الیکشن کا معاملے پر مسمل لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے انتخابات میں حصہ لینے سے معذرت کرلی۔
سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے ایک بیان میں کہا کہ ضمنی انتخاب کے لیے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینا مقامی امیدواران کا بنیادی حق ہے، بعض ناگزیر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ضمنی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہیں لینا چاہتا۔
دوسری جانب پنجاب کے 3 انتخابی حلقوں میں ضمنی الیکشن کے لیے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب نے مشاورتی اجلاس ہوا جبکہ اجلاس کی صدارت گورنر پنجاب اور حسن مرتضیٰ نے کی۔
اجلاس میں پی پی 87 میانوالی، این اے 66 وزیر آباد اور این اے 129 لاھور کے لیے انتخابی حکمت عملی پرغور کیا گیا۔ حسن مرتضی نے پی پی 87 میانوالی سے زبیر حمزہ کو نامزد کرنے کی سفارش کی۔
جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نے کہا کہ این اے 66 وزیر آباد میں پارٹی کی طرف سے مضبوط امیدوار میدان میں اتاریں گے، این اے 129 لاھور کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر ٹکٹ دیں گے، الیکشن لڑ کر پیپلزپارٹی کی جگہ حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے ہر گھر میں پیپلز پارٹی موجود ہے، صرف اسے جگانے کی ضرورت ہے، ہمیں ڈرائنگ روم کی بجائے انتخابی میدان میں لڑ مرنے کی ضرورت ہے، ضمنی انتخابات اپنے وسائل سے لڑیں گے اور پیپلز پارٹی کی موجودگی ثابت کریں گے، ن لیگ سے کوٹہ نہیں مانگیں گے بلکہ دبنگ طریقے سے الیکشن لڑیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔