گوادر سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے رہنما ہدایت الرحمان کی سربراہی میں ‘حق دو تحریک’ کا لانگ مارچ کوئٹہ سے شروع ہوا اور اس کا مقصد اسلام آباد پہنچ کر بلوچستان کے عوامی مسائل کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانا تھا۔

یہ مارچ 29 جولائی 2025 کو لاہور پہنچا لیکن پنجاب حکومت نے اسے شہر میں داخلے سے روک دیا جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مارچ کے شرکا نے پرامن احتجاج کو ترجیح دی اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کیا۔ لانگ مارچ کے شرکا سے پنجاب حکومت کے مذکرات جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں ہوئے، حق دو تحریک کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی منصورہ کے باہر تعینات رہی لیکن 30 جولائی کو پنجاب حکومت کے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ مذکرات کامیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے: لانگ مارچ: پنجاب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب

کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں حق دو تحریک کے شرکا نے 30 جولائی 2025 کو منصورہ سے لاہور پریس کلب تک مارچ کیا اور وہاں پرامن دھرنا دیا ہے۔ اس دھرنے کی میزبانی جماعت اسلامی لاہور کر رہی ہے اور کیمپ کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت نے شرکا کو مکمل سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، اور ان کے تحفظ، سہولت، اور عزت کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ اگر مارچ کے دوران شرکا کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے لیے معذرت بھی کی گئی۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ

پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی مریم اورنگزیب نے کی۔ اس میں صوبائی وزرا صہیب بھرتھ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، امیر العظیم اور مولانا ہدایت الرحمٰن نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حق دو مارچ: منصورہ سے باہر نکلنے کی کوشش پر مظاہرین کا پولیس سے تصادم

2 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں طے پایا کہ شرکا لاہور پریس کلب پر پرامن دھرنا دیں گے جبکہ مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا 8 رکنی وفد مطالبات پر مزید بات چیت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگا۔

مولانا ہدایت الرحمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ بلوچستان میں حکومتی رٹ کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل پر زور دیا۔ پنجاب حکومت نے ان مطالبات کو وفاق تک پہنچانے اور حل کرانے میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امیر جماعت اسلامی کا یکم ستمبر سے ’حق دو عوام کو‘ تحریک چلانے کا اعلان

وفاقی حکومت نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، جام کمال، عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی سیکریٹری داخلہ شامل ہیں۔

اس موقع جماعت اسلامی کے رہنما   لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ لانگ مارچ سیاسی، جمہوری، اور پرامن جدوجہد کا حصہ ہے۔ راستے میں رکاوٹوں کے باوجود شرکا نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے نتائج کی بنیاد پر باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حق دو تحریک لانگ مارچ مذاکرات ہدایت الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حق دو تحریک لانگ مارچ مذاکرات ہدایت الرحمان جماعت اسلامی کے پنجاب حکومت نے ہدایت الرحمان مولانا ہدایت حق دو تحریک لانگ مارچ حکومت کے مارچ کے کے شرکا کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور