پنجاب حکومت کے ‘حق دو تحریک’ کے لانگ مارچ کے شرکا سے مذاکرات میں کیا طے پایا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
گوادر سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے رہنما ہدایت الرحمان کی سربراہی میں ‘حق دو تحریک’ کا لانگ مارچ کوئٹہ سے شروع ہوا اور اس کا مقصد اسلام آباد پہنچ کر بلوچستان کے عوامی مسائل کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانا تھا۔
یہ مارچ 29 جولائی 2025 کو لاہور پہنچا لیکن پنجاب حکومت نے اسے شہر میں داخلے سے روک دیا جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مارچ کے شرکا نے پرامن احتجاج کو ترجیح دی اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کیا۔ لانگ مارچ کے شرکا سے پنجاب حکومت کے مذکرات جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں ہوئے، حق دو تحریک کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی منصورہ کے باہر تعینات رہی لیکن 30 جولائی کو پنجاب حکومت کے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھ مذکرات کامیاب ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیے: لانگ مارچ: پنجاب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب
کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں حق دو تحریک کے شرکا نے 30 جولائی 2025 کو منصورہ سے لاہور پریس کلب تک مارچ کیا اور وہاں پرامن دھرنا دیا ہے۔ اس دھرنے کی میزبانی جماعت اسلامی لاہور کر رہی ہے اور کیمپ کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے شرکا کو مکمل سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، اور ان کے تحفظ، سہولت، اور عزت کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ اگر مارچ کے دوران شرکا کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے لیے معذرت بھی کی گئی۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہپنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی مریم اورنگزیب نے کی۔ اس میں صوبائی وزرا صہیب بھرتھ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، امیر العظیم اور مولانا ہدایت الرحمٰن نے مذاکرات میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حق دو مارچ: منصورہ سے باہر نکلنے کی کوشش پر مظاہرین کا پولیس سے تصادم
2 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں طے پایا کہ شرکا لاہور پریس کلب پر پرامن دھرنا دیں گے جبکہ مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا 8 رکنی وفد مطالبات پر مزید بات چیت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ بلوچستان میں حکومتی رٹ کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل پر زور دیا۔ پنجاب حکومت نے ان مطالبات کو وفاق تک پہنچانے اور حل کرانے میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امیر جماعت اسلامی کا یکم ستمبر سے ’حق دو عوام کو‘ تحریک چلانے کا اعلان
وفاقی حکومت نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، جام کمال، عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی سیکریٹری داخلہ شامل ہیں۔
اس موقع جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ لانگ مارچ سیاسی، جمہوری، اور پرامن جدوجہد کا حصہ ہے۔ راستے میں رکاوٹوں کے باوجود شرکا نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے نتائج کی بنیاد پر باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حق دو تحریک لانگ مارچ مذاکرات ہدایت الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حق دو تحریک لانگ مارچ مذاکرات ہدایت الرحمان جماعت اسلامی کے پنجاب حکومت نے ہدایت الرحمان مولانا ہدایت حق دو تحریک لانگ مارچ حکومت کے مارچ کے کے شرکا کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔