ہائیکورٹ: سلمان شہباز پر چیک باؤنس کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز پر چیک بائونس کا مقدمہ درج کرنے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، سلمان شہباز کے وکیل نے درخواست میں موقف اپنایا کہ سیشن کورٹ نے دس جولائی کو قانون کے منافی حقائق کا جائزہ لیے بغیر چیک ڈس آنر کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا۔ لیپ ٹاپ کبھی کمپنی تک پہنچے ہی نہیں، کمپنی کے ملازم نے چیک چوری کر کے آگے دئیے، کمپنی کے ملازم پر چوری کا مقدمہ بھی درج کرایا گیا۔ لہٰذا کمپنی کا ان چیکس سے کوئی لینا دینا نہیں، عدالت نے مدعی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک یہ نہیں بتا سکے کہ خریداری کس تاریخ کی ہے؟ لیپ ٹاپس خریداری کی رسیدوں پر وصولی دیتے وقت کمپنی کی سٹیمپ بھی موجود نہیں؟ یہ کمپنیوں کا معاملہ ہے، کمپنیاں ایسے کام نہیں کرتیں، دوران سماعت وکیل سید فراز حیدر نے بتایا کہ سلمان شہباز کی کمپنی نے 17 لیپ ٹاپ خریدے لیپ ٹاپ کی خریداری پر 6لاکھ کا چیک دیا گیا، کیش کرانے پر چیک بائونس ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔