ایک وقت تھا جب ڈاکٹرز مریضوں کو گھروں پر جا کر چیک کرتے تھے لیکن جیسے جیسے وقت بدلا وہ روایت بھی پیچھے رہ گئی۔ آپ نے پرانی فلموں میں شاید دیکھا ہو کہ ڈاکٹر صاحب فون موصول ہونے پر اپنا بیگ اٹھائے مریض کے گھر تشریف لاتے اور بیمار کے کے معائنے کے بعد علاج تجویز کرکے اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک چھوڑ کر وقار سے واپس جاتے۔ گھر والے احتراماً ان کا بیگ تھامے باہر انہیں ان کی گاڑی (عموماً موریس مائنر، رینالٹ فور یا فوکسی) تک چھوڑ آتے۔ اب ایک بار پھر برطانیہ کے علاقے ویسٹ مڈ لینڈز میں وہ روایت پھر سے زندہ ہو رہی ہے لیکن تھوڑے جدید انداز میں۔

پرانے دور کی تصویر

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سینڈویل اور ویسٹ برمنگھم میں اسپتالوں کے ڈاکٹر، جنرل پریکٹیشنر (فیملی ڈاکٹر)، پیرامیڈکس، سوشل ورکرز اور کمیونٹی نرسوں کے ساتھ مل کر ایسے مریضوں کو گھر پر ہی وہ علاج فراہم کر رہے ہیں جو عام طور پر اسپتالوں میں دیا جاتا ہے۔92  سالہ جارج ٹنکس جو ایجباسٹن کے رہائشی ہیں ان مریضوں میں شامل ہیں جنہیں پھیپھڑوں میں پانی اور دل کے مسائل کے لیے ماہر ڈاکٹرز اور نرس گھر پر ہی روزانہ کی بنیاد پر علاج فراہم کر رہے ہیں۔

پرانے وقتوں کی ایک جھلک

جارج کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں آتا کہ سب کچھ اتنا اچھا ہو رہا ہے اور سب لوگ ان کی مدد کے لیے دوڑ رہے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرز کو مریض و لواحقین سے کیا نہیں کہنا چاہیے؟

یہ اقدام این ایچ ایس کے 10 سالہ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مریضوں کا علاج ان کی اپنی کمیونٹی میں ممکن بنانا ہے۔

اسمیتھ وِک میں واقع میڈلینڈ میٹروپولیٹن یونیورسٹی اسپتال، جو ملک کے ایک محروم علاقے کو خدمات فراہم کرتا ہے، اس تبدیلی کا آغاز پہلے ہی کر چکا ہے۔

یہاں کے ڈاکٹرز ہر ہفتے تقریباً 20 شدید بیمار مریضوں کو ان کے گھروں میں چیک کرتے ہیں جب کہ دیگر ماہرین کی ٹیمیں بھی گھروں میں جا کر علاج فراہم کرتی ہیں۔

ایکیوٹ میڈیکل کنسلٹنٹ ڈاکٹر سرب کلیر نے بتایا کہ اسپتال نے اپنے 100 بستروں کو ختم کر کے اس کے فنڈ کو کمیونٹی میں علاج پر لگا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: ڈاکٹرصحت سے متعلق الیکٹرانک مصنوعات سے خائف کیوں؟

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک انقلاب ہے کہ مریضوں کو اپنے گھر میں ڈاکٹر سے علاج ملے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خواب جیسا ہے کہ ہم واپس وہیں جا رہے ہیں جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا۔

ڈاکٹر کلیر نے کہا کہ مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ میں جو کہ ایک اسپتال میں کام کرنے والی ہوں ایک دن خود مریضوں کے گھروں میں جا کر علاج کر رہی ہوں گی، لیکن اب یہ بالکل ٹھیک ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر شرجیل کیانی اور ان کی ٹیم روزانہ مسٹر ٹنکس کے فلیٹ میں جا کر ان کا علاج کر رہی ہے۔

ڈاکٹر شرجیل نے کہا کہ اسپتال جانا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا وہاں مریض گر سکتے ہیں یا انہیں الجھن یا انفیکشن کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم انہیں گھر پر رکھ سکتے ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔

مزید پڑھیں: مریض کی دیکھ بھال کے دوران جھوٹ بولنا نرس کو مہنگا پڑگیا

جارج ٹنکس اگرچہ بیمار ہیں مگر گھریلو ماحول میں خوش اور پرسکون نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں زندگی میں کئی بار اسپتال گیا ہوں اور تجربہ ہمیشہ اچھا ہی رہا ہے مگر اب لگتا ہے کہ گھر ہی سب سے بہتر جگہ ہے۔

ادھر اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں پالی ایٹیو کیئر اسپیشلسٹ ڈاکٹر مائیک بلیبر نے بتایا کہ سب سے زیادہ کمزور مریض عموماً اسپتال آتے ہیں مگر اب گھر پر ہی پالی ایٹیو کیئر فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کتنے پاکستانیوں کو ایک ڈاکٹر، ڈینٹسٹ اور نرس کی سہولت میسر ہے؟

اب اسپتال میں بچوں، دل، سانس، اور کمزور بزرگ مریضوں کے لیے ورچوئل وارڈز بھی بن چکے ہیں۔ ماہرین ان کے گھروں میں جا کر وہی علاج فراہم کر رہے ہیں جیسا پہلے اسپتالوں میں کیا جاتا تھا اور وہ بھی زیادہ محفوظ انداز میں۔

ڈاکٹر بلیبر نے کہا کہ ہمارے پاس اسپتال کا آپشن ہمیشہ موجود ہوتا ہے مگر اکثر اوقات خصوصاً ضعیف اور نازک مزاج مریضوں کے لیے اسپتال ہی واحد حل نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر رتھ فاؤ، کوڑھ کے مریضوں کی ماں

اس انقلابی اقدام پر اسپتال کو بین الاقوامی سطح پر سراہا بھی گیا۔ رائل کالج آف فزیشنز کی جانب سے الائنس میڈیکل ہیلتھ ان ایکوالٹی ایوارڈ دیا گیا۔

محکمہ صحت و سماجی بہبود کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں مریضوں کو تیز رفتاری سے صحت یاب دیکھنا ہے تو ہمیں این ایچ ایس کا فوکس اسپتال سے نکال کر کمیونٹی کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب  اے آئی ڈاکٹر کلینک کھولنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم ڈاکٹروں، نرسوں، فارماسسٹ، سوشل ورکرز اور دیگر ماہرین کو ایک ساتھ لا کر کمیونٹیز میں مربوط علاج مہیا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

برطانیہ ڈاکٹر مریض کی دہلیز پر گھر اسپتال سے بہتر گھر پر بہتر علاج وقت کا پہیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برطانیہ ڈاکٹر مریض کی دہلیز پر گھر اسپتال سے بہتر گھر پر بہتر علاج وقت کا پہیہ علاج فراہم کر کر رہے ہیں گھروں میں مریضوں کو نے کہا کہ انہوں نے کے گھر کے لیے گھر پر

پڑھیں:

پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمسایہ ملک دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے، ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت اسے دوبارہ فروغ دیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ صوبے کی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا۔

اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے درمیان طویل فاصلے ہونے کے باعث ترقیاتی وسائل کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہے، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، جبکہ دیگر تینوں صوبوں نے بھی بلوچستان کا بھرپور ساتھ دیا، جو کسی احسان کے بجائے بھائی چارے کی مثال ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی صوبے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے اور وسائل مختص کیے گئے، پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔

تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ ڈالا، کراچی سے چمن تک دورویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے، جس پر 300 ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ آئندہ دو برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور ان کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے۔

وزیراعظم نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ افغان حکومت دہشتگرد عناصر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور معرکۂ حق میں دشمن کو شکست فاش دی، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے لے جایا جائے اور قومی خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق