تحریک انصاف کی ریلیاں ناکام ؛ کچھ ارکان اسمبلی اور ورکرز گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
عثمان خادم :تحریک انصاف کی ریلیاں ناکام ہوگئیں کچھ ارکان اسمبلی اور ورکرز گرفتار ہوئے
پارٹی قیادت کارکنوں کو احتجاج کیلئے نکالنے میں ناکام رہی ،پی ٹی آئی لاہور تنظیم بھی احتجاج کا اعلان کرکے غائب ہوگئی،پی ٹی آئی کے کئی ارکان اسمبلی اور متحرک ورکرز گرفتار ہوئے
پائن ایونیو میں ریلی نکالنے پر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین الدین گرفتار ہوئے ،ارکان اسمبلی میجر (ر) اقبال خٹک ،فرخ جاوید مون ،سردار ندیم صادق، امین اللہ خان، شعیب امیر اعوان اور خان صلاح الدین بھی گرفتار ہوگئے ،ریحانہ ڈار، عروبہ ڈار ،ناز بلوچ کو پولیس نے ایوان عدل کے باہر سے گرفتار کیا
ڈپٹی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی شوکت بسرا نے گلبرگ میں ریلی نکالی،ٹکٹ ہولڈر چوہدری اصغر گجر ،حافظ ذیشان رشید نے کینال روڈ پر ریلی نکالی،تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے جاتی امرا میں ریلی نکالی۔پولیس نے عالیہ حمزہ کو گرفتار کرنے کوشش کی مگر وہ بچ نکلیں
پی ٹی آئی لاہور کی تنظیم اور صدر شیخ امتیاز محمود خود منظر عام سے غائب رہے،ورکرز لاہور تنظیم کے عہدیداروں کی راہ تکتے رہے مگر کوئی بھی نہ نکلا،پی ٹی آئی مینار پاکستان پر جلسہ منعقد کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی
انصاف لائرز فورم نے رہنماؤں و کارکنوں کی ضمانتوں کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدیں
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔