جنیوا: پلاسٹک آلودگی کے خاتمہ کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 اگست 2025ء) پلاسٹک کے فضلے کی بڑھتی ہوئی مقدار اور انسانی صحت، سمندری حیات اور معیشت پر اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جنیوا میں ایک عالمی معاہدے کو حتمی صورت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے کہا ہے کہ ایسے معاہدے کے بغیر 2060 تک پلاسٹک کے فضلے کی مقدار تین گنا بڑھ چکی ہو گی جس سے انسانوں اور زمین کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔
Tweet URL2022 میں رکن ممالک نے پلاسٹک کی آلودگی کے بحران کا خاتمہ کرنے کے مقصد سے اس معاہدے کے لیے بات چیت شروع کی تھی جس کی پابندی ارکان پر لازم ہو گی۔
(جاری ہے)
اس کے بعد یونیپ کی قیادت میں اس گفت و شنید کا آغاز ہوا جو اب حتمی مرحلے میں ہے۔پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف معاہدہ طے کرنے کے لیے اب تک بات چیت کے پانچ اجلاس ہو چکے ہیں۔ پہلا اجلاس نومبر 2022 میں یوروگوئے میں ہوا۔ اس کے بعد فرانس اور پھر کینیا میں یہ بات چیت جاری رہی۔ اپریل 2024 میں 'آئی این سی' نے کینیڈا میں اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔ اس مسئلے پر تازہ ترین بات چیت گزشتہ سال کے اختتام پر جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں شروع ہوئی۔
اس میں شرکا نے جنیوا میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔'ری سائیکلنگ کافی نہیں'روزانہ پلاسٹک کے تھیلے، چمچ، سٹرا، کپ اور کاسمیٹک اشیا سمیت ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بہت بڑی مقدار سمندروں اور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کی جگہوں پر پہنچتی ہے اور یہ چیزیں سیکڑوں سال تک ماحول میں موجود رہ کر اسے نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔
تازہ ترین اندازوں کے مطابق، 2040 تک ماحول میں پلاسٹک کا اخراج 50 فیصد تک بڑھ جائے گا اور 2016 اور 2040 کے درمیانی عرصہ میں پلاسٹک کی آلودگی سے ہونے والے نقصانات کی مالیت 281 ٹریلن ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف معاہدے کے حامیوں نے اسے پیرس موسمیاتی معاہدے جتنا ہی اہم قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بعض ممالک کی جانب سے اس معاہدے کے خلاف دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے جن کا خام تیل اور قدرتی گیس پلاسٹک کے بنیادی اجزا کی تیاری میں کام آتے ہیں۔
یونیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی کے بحران پر قابو پانے کے لیے محض ری سائیکلنگ کافی نہیں بلکہ پلاسٹک کی گردشی معیشت کی جانب منتقلی کے لیے بنیادی تبدیلی لانا ہو گی۔
پلاسٹک کی گردشی معیشت5 تا 14 اگست جاری رہنے والی بات چیت میں 179 ممالک کے مندوبین اور 618 مشاہدہ کار اداروں کے 1,900 شرکا بشمول سائنس دان، ماہرین ماحولیات اور صنعتوں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
اس اجلاس کا ایک اہم مقصد پلاسٹک کے آزمائے ہوئے محفوظ متبادل کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا بھی ہے۔جنیوا میں اس معاہدے پر بین الحکومتی مذاکراتی کمیٹی (آئی این سی) کے اجلاس کی رہنمائی کے لیے استعمال ہونے والے متن میں کہا گیا ہے کہ، یہ معاہدہ پلاسٹک کے ڈیزائن سے لے کر بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار اور تلفی تک اس کی زندگی کے ہر مرحلے کا احاطہ کرتے ہوئے ماحول میں پلاسٹک کے اخراج کو روکے گا۔
22 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں 32 شقیں شامل ہیں جن پر سطر بہ سطر بات چیت ہو گی اور یہی معاہدے پر گفت و شنید کا نقطہ آغاز ہو گا۔
زندگی کے لیے سنگین خطرہاس بات چیت سے قبل موقر طبی جریدے دی لینسٹ نے انتباہ کیا ہے کہ پلاسٹک میں استعمال ہونے والے اجزا اس کی زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو عمر کے ہر حصے میں نقصان پہنچاتے ہیں۔
جریدے نے دو درجن سے زیادی طبی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچوں کو پلاسٹک سے لاحق خطرات دیگر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
پلاسٹک انسان اور کرہ ارض کی زندگی کو لاحق سنگین، بڑھتا ہوا اور ایسا خطرہ ہے جس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ پلاسٹک سے ہونے والے طبی نقصان کی سالانہ معاشی قیمت 1.5 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔
جنیوا میں ہونے والی اس بات چیت کی قیادت 'آئی این سی' کی ایگزیکٹو سیکرٹری جیوتی ماتھر فلپ کر رہی ہیں جن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ہی انسان نے 500 ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک استعمال کیا جس میں سے 399 ملین ٹن فضلہ بن کر ماحول میں موجود رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جنیوا میں معاہدے کے ہونے والے ماحول میں پلاسٹک کے بات چیت کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔