راولپنڈی سدرہ قتل کیس؛ تمام 6 ملزمان کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
راولپنڈی:
غیرت کے نام پر شادی شدہ لڑکی کے قتل کیس میں عدالت نے گرفتار تمام 6 ملزمان کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
پیرودھائی کے علاقے میں غیرت کے نام پر سدرہ بی بی قتل کیس میں پولیس نے عدالت سے تمام 6 گرفتار ملزمان کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا جب کہ وکلائے صفائی کی جانب سے مسلسل تیسری بار جسمانی ریمانڈ کی شدید مخالفت کی گئی۔
دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے آلہ قتل تکیہ اور لاش لے جانے والا لوڈر رکشا برآمد کرنا ہے، ملزمان بہت چالاک ہیں، تکیہ اور لوڈر رکشا حوالے نہیں کر رہے۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گھسا پٹا تیسری مرتبہ موقف ہے، جب کہ لوڈر رکشا پولیس کے پاس موجود ہے، پولیس ملزم کے گھر سے سرخ رنگ کا لوڈر رکشا لے کر گئی ہے، تکیہ بھی پولیس نے پہلے دن لے لیا تھا، لوڈررکشا اور تکیہ پھر بھی بہانا ہے تو صرف شوہر اور رکشا مالک کا ریمانڈ لے سکتے ہیں دیگر 4 ملزمان جن سے کوئی چیز ریکور نہیں کرنی انہیں جیل بھیجا جائے۔
بعد ازاں ڈیوٹی سول جج شمع یاسین نے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد جاری کردیا۔
عدالت نے گرفتار تمام 6 ملزمان کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور کہا کہ آئندہ تاریخ تک تفتیش مکمل کی جائے مزید ریمانڈ نہیں دیا جائے گا۔ عدالت نے ملزمان کو دوبارہ 9 اگست کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
پولیس کی جانب سے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا گیا تاہم عدالت نے چار روزہ منظور کیا۔
ملزمان میں قتل کا فتویٰ دینے والا جرگہ سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ کا والد عرب گل، سسر سلیم گل، لوڈر رکشا مالک مانی گل، مقتولہ کا پہلا شوہر ضیاء الرحمان، بھائی اور چاچا شامل ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی ٹیم نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ مقتولہ کے قبر کشائی میں لئے گئے جسم کے ٹکڑے فرانزک ٹیسٹ کیلئے لاہور لیبارٹری کو ارسال کردیے، ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹرز نے سانس گھٹنے اور گلا دبا کر قتل کی تصدیق کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ملزمان کا مزید لوڈر رکشا عدالت نے قتل کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔