ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ قائد شہید نے جب قیادت سنبھالی تو مشکل وقت تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے جرات، بہادری اور جوانمردی کے ساتھ قومیات میں اپنا کردار ادا کیا ہے، آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
ملتان، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37ویں برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام
اسلام ٹائمز۔ جامعہ شہید مطہری ملتان میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 37 ویں برسی کی مناسبت سے مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا۔ تلاوت قرآن مجید کی سعادت مولانا غلام جعفر انصاری اور نعت رسول مقبول کی سعادت برادر وقاص حیدر نے حاصل کی۔ مجلس عزاء سے سربراہ امت واحدہ پاکستان حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد امین شہیدی، علامہ غلام مصطفیٰ انصاری، علامہ طاہر عباس نقوی، شاعر اہلبیت زوار حسین بسمل اور مولانا سید فرخ شمسی نے خطاب کرتے ہوئے شہادت اور شہید عارف حسین الحسینی کی زندگی کے بارے میں روشنی ڈالی۔ آخر میں علامہ غلام مصطفیٰ انصاری نے دعا کروائی اور برادر ذیشان خالق نے ترانہ پیش کیا۔ مجلس عزا میں مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ علامہ محمد امین شہید ی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد شہید نے جب قیادت سنبھالی تو مشکل وقت تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے جرات، بہادری اور جوانمردی کے ساتھ قومیات میں اپنا کردار ادا کیا ہے، آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔