مغربی و عربی ممالک حماس کے خلاف سرگرم
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اگرچہ بظاہر یہ مشترکہ اعلامیہ دو ریاستی حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوشش معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ سیاسی چال لگتی ہے۔ اس اعلامیے میں حماس کو غیر مسلح کرنا ایک پیشگی شرط قرار دیکر فلسطینی مزاحمت کو ہتھیاروں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر اسکے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے یا فلسطینی خود مختاری کی ضمانت دی جائے۔ درحقیقت، یہ وہ منصوبہ ہے، جسے باہر کی طاقتیں خطے پر مسلط کرنا چاہتی ہیں؛ ایک ایسا منصوبہ جو فلسطین کو ایک کمزور اور انحصار پذیر خطہ بنا سکتا ہے، نہ کہ ایک آزاد ریاست۔ فلسطینی قوم کے تاریخی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی وعدے صرف اس وقت پورے ہوتے ہیں، جب مزاحمت کا دباؤ ہو۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
غزہ ایک طرف نسل کشی کا شکار ہے۔ لوگوں کو بھوک اور پیاس کے ذریعے قتل کیا جا رہا ہے۔ سب کچھ تباہ کر دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں ہوں یا عرب ممالک کی حکومتیں، سب کے سب غزہ میں ہونے والی اس بھیانک نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی حکومت عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے حالات میں عرب و یورپ کی حکومتوں کی منافقت اور دوہرا معیار بھی واضح ہو رہا ہے کہ جہاں ایک طرف غزہ میں ہونے والے ہولناک جرائم پر خاموش ہیں، وہاں ساتھ ساتھ غزہ ہی کے خلاف سازشوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ حالیہ دنوں فلسطینی مزاحمت حماس اور غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد عرب اور مغربی حکومتیں تیزی کے ساتھ حماس اور غزہ کے خلاف سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔
غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کو یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ وہ طاقت کے زور پر حماس سے اپنے قیدیوں کو واپس نہیں لے سکتی اور نہ ہی جنگ میں حماس کو ختم اور غزہ کو خالی کرسکیں گے، تاہم اب عرب ممالک کی حکومتوں کو یورپی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک نئے انداز سے یہ ٹاسک مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ عرب حکمران جو پہلے ہی غزہ کے لئے کچھ مدد کرنے سے قاصر ہیں، اب یورپ اور امریکہ کی خوشنودی کی خاطر غزہ کے مظلوم لوگوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ یقیناً صیہونی مسلم عرب حکومتوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔؟ اس وقت مغربی ممالک اور عرب ممالک حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں مغربی اور عرب ممالک جن میں قطر، سعودی عرب، مصر، فرانس، برطانیہ، یورپی یونین اور عرب لیگ نے اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ پر اس کی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیانیے کی سات صفحات پر مشتمل تفصیل کو 17 ممالک اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے حمایت فراہم کی۔ بیانیے میں 7 اکتوبر 2023ء کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حماس اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی خود مختار اتھارٹی کو بین الاقوامی نگرانی اور تعاون کے تحت سونپ دے، تاکہ ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو۔
بیانیے میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں عالمی سطح پر بھرپور تعاون کیا جائے گا اور جلد ہی اس مقصد کے لیے قاہرہ میں تعمیر نو کانفرنس منعقد ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایک عالمی ٹرسٹ فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا کے کردار کو تسلیم کیا گیا اور فلسطینی خود مختار اتھارٹی میں اصلاحات کے منصوبے کی بھی حمایت کی گئی۔ فرانس کے وزیر خارجہ ژان نوئل بارو، جنہوں نے اس کانفرنس کی صدارت سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ طور پر کی، نے اس اعلامیے کو "تاریخی اور بے مثال" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار عرب ممالک نے نہ صرف حماس اور 7 اکتوبر کے واقعات کی مذمت کی ہے بلکہ اس کے غیر مسلح ہونے اور فلسطینی حکومتی ڈھانچے سے باہر کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اگرچہ بظاہر یہ مشترکہ اعلامیہ دو ریاستی حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوشش معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ سیاسی چال لگتی ہے۔ اس اعلامیے میں حماس کو غیر مسلح کرنا ایک پیشگی شرط قرار دے کر فلسطینی مزاحمت کو ہتھیاروں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر اس کے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے یا فلسطینی خود مختاری کی ضمانت دی جائے۔ درحقیقت، یہ وہ منصوبہ ہے، جسے باہر کی طاقتیں خطے پر مسلط کرنا چاہتی ہیں؛ ایک ایسا منصوبہ جو فلسطین کو ایک کمزور اور انحصار پذیر خطہ بنا سکتا ہے، نہ کہ ایک آزاد ریاست۔ فلسطینی قوم کے تاریخی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی وعدے صرف اس وقت پورے ہوتے ہیں، جب مزاحمت کا دباؤ ہو۔
اگر حماس کو غیر مسلح کر دیا گیا اور غزہ میں مزاحمت کمزور ہوگئی، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنی بات پر قائم رہیں گے، بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ اسرائیل ان ہی ممالک کی رضامندی سے مذاکرات کی میز چھوڑ دے اور ایک بار پھر سازش شروع کر دے۔ اس اعلامیے کا حماس کو فلسطینی سیاسی نظام سے نکالنے پر زور دینا، جبکہ وہ فلسطینی معاشرے اور مزاحمت کا ایک حصہ ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان ممالک کا مقصد حقیقی امن نہیں بلکہ فلسطینی سیاسی منظرنامے کو مغربی مفادات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ صیہونی مسلم خلیجی ریاستوں سے اس کے علاوہ اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح کر فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی فلسطینی خود کہ اسرائیل اس اعلامیے عرب ممالک کے خاتمے ممالک کی کے ساتھ اور غزہ گیا ہے کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔