Islam Times:
2026-07-24@12:20:42 GMT

مغربی و عربی ممالک حماس کے خلاف سرگرم

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

مغربی و عربی ممالک حماس کے خلاف سرگرم

اسلام ٹائمز: ‏اگرچہ بظاہر یہ مشترکہ اعلامیہ دو ریاستی حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوشش معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ سیاسی چال لگتی ہے۔ اس اعلامیے میں حماس کو غیر مسلح کرنا ایک پیشگی شرط قرار دیکر فلسطینی مزاحمت کو ہتھیاروں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر اسکے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے یا فلسطینی خود مختاری کی ضمانت دی جائے۔ درحقیقت، یہ وہ منصوبہ ہے، جسے باہر کی طاقتیں خطے پر مسلط کرنا چاہتی ہیں؛ ایک ایسا منصوبہ جو فلسطین کو ایک کمزور اور انحصار پذیر خطہ بنا سکتا ہے، نہ کہ ایک آزاد ریاست۔ ‏فلسطینی قوم کے تاریخی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی وعدے صرف اس وقت پورے ہوتے ہیں، جب مزاحمت کا دباؤ ہو۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

غزہ ایک طرف نسل کشی کا شکار ہے۔ لوگوں کو بھوک اور پیاس کے ذریعے قتل کیا جا رہا ہے۔ سب کچھ تباہ کر دیا گیا ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں ہوں یا عرب ممالک کی حکومتیں، سب کے سب غزہ میں ہونے والی اس بھیانک نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی حکومت عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے حالات میں عرب و یورپ کی حکومتوں کی منافقت اور دوہرا معیار بھی واضح ہو رہا ہے کہ جہاں ایک طرف غزہ میں ہونے والے ہولناک جرائم پر خاموش ہیں، وہاں ساتھ ساتھ غزہ ہی کے خلاف سازشوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ حالیہ دنوں فلسطینی مزاحمت حماس اور غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد عرب اور مغربی حکومتیں تیزی کے ساتھ حماس اور غزہ کے خلاف سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔

غاصب صہیونی حکومت اسرائیل کو یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ وہ طاقت کے زور پر حماس سے اپنے قیدیوں کو واپس نہیں لے سکتی اور نہ ہی جنگ میں حماس کو ختم اور غزہ کو خالی کرسکیں گے، تاہم اب عرب ممالک کی حکومتوں کو یورپی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک نئے انداز سے یہ ٹاسک مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ عرب حکمران جو پہلے ہی غزہ کے لئے کچھ مدد کرنے سے قاصر ہیں، اب یورپ اور امریکہ کی خوشنودی کی خاطر غزہ کے مظلوم لوگوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ یقیناً صیہونی مسلم عرب حکومتوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔؟ اس وقت مغربی ممالک اور عرب ممالک حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں۔

‏حال ہی میں مغربی اور عرب ممالک جن میں قطر، سعودی عرب، مصر، فرانس، برطانیہ، یورپی یونین اور عرب لیگ نے اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ پر اس کی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ‏بیانیے کی سات صفحات پر مشتمل تفصیل کو 17 ممالک اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے حمایت فراہم کی۔ ‏بیانیے میں 7 اکتوبر 2023ء کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حماس اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی خود مختار اتھارٹی کو بین الاقوامی نگرانی اور تعاون کے تحت سونپ دے، تاکہ ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو۔

‏بیانیے میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں عالمی سطح پر بھرپور تعاون کیا جائے گا اور جلد ہی اس مقصد کے لیے قاہرہ میں تعمیر نو کانفرنس منعقد ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایک عالمی ٹرسٹ فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا کے کردار کو تسلیم کیا گیا اور فلسطینی خود مختار اتھارٹی میں اصلاحات کے منصوبے کی بھی حمایت کی گئی۔ ‏فرانس کے وزیر خارجہ ژان نوئل بارو، جنہوں نے اس کانفرنس کی صدارت سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ طور پر کی، نے اس اعلامیے کو "تاریخی اور بے مثال" قرار دیا۔ ‏ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار عرب ممالک نے نہ صرف حماس اور 7 اکتوبر کے واقعات کی مذمت کی ہے بلکہ اس کے غیر مسلح ہونے اور فلسطینی حکومتی ڈھانچے سے باہر کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

‏اگرچہ بظاہر یہ مشترکہ اعلامیہ دو ریاستی حل اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوشش معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ سیاسی چال لگتی ہے۔ اس اعلامیے میں حماس کو غیر مسلح کرنا ایک پیشگی شرط قرار دے کر فلسطینی مزاحمت کو ہتھیاروں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر اس کے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے یا فلسطینی خود مختاری کی ضمانت دی جائے۔ درحقیقت، یہ وہ منصوبہ ہے، جسے باہر کی طاقتیں خطے پر مسلط کرنا چاہتی ہیں؛ ایک ایسا منصوبہ جو فلسطین کو ایک کمزور اور انحصار پذیر خطہ بنا سکتا ہے، نہ کہ ایک آزاد ریاست۔ ‏فلسطینی قوم کے تاریخی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی وعدے صرف اس وقت پورے ہوتے ہیں، جب مزاحمت کا دباؤ ہو۔

اگر حماس کو غیر مسلح کر دیا گیا اور غزہ میں مزاحمت کمزور ہوگئی، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اسرائیل اور اس کے حمایتی اپنی بات پر قائم رہیں گے، بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ اسرائیل ان ہی ممالک کی رضامندی سے مذاکرات کی میز چھوڑ دے اور ایک بار پھر سازش شروع کر دے۔ ‏اس اعلامیے کا حماس کو فلسطینی سیاسی نظام سے نکالنے پر زور دینا، جبکہ وہ فلسطینی معاشرے اور مزاحمت کا ایک حصہ ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان ممالک کا مقصد حقیقی امن نہیں بلکہ فلسطینی سیاسی منظرنامے کو مغربی مفادات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ ‏صیہونی مسلم خلیجی ریاستوں سے اس کے علاوہ اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح کر فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی فلسطینی خود کہ اسرائیل اس اعلامیے عرب ممالک کے خاتمے ممالک کی کے ساتھ اور غزہ گیا ہے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو