زائرین اربعین مارچ، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، ایم ڈبلیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اپنے بیان میں وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ سندھ حکومت پُرامن مارچ کے راہ میں رکاوٹ نہ بنے، کراچی سے بلوچستان بارڈر تک زائرین مارچ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی کا کہنا ہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں اربعین حسینیؑ مارچ کا کراچی سے آغاز ہوگیا ہے، ہمارا مارچ پُرامن ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اپنے بیان میں علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اربعین حسینیؑ مارچ میں خواتین، مرد و بزرگ زائرین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، مارچ میں بڑی تعداد میں زائرین کی بسیں اور رہنماوں کی گاڑیاں شامل ہیں، زائرین اور زیارت کا مسئلہ سیاسی نہیں عقیدتی ہے، وفاقی حکومت کی زائرین پر لگائی جانے والی بیجا پابندی کے خلاف مارچ پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پُرامن مارچ کے راہ میں رکاوٹ نہ بنے، کراچی سے بلوچستان بارڈر تک زائرین مارچ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی ذمہ داری سندھ حکومت
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔