پاکستان اور ایران کے درمیان فیری سروس کا لائسنس جاری کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ایک پرائیویٹ کمپنی نے 7 سال قبل لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، حکومت پاکستان نے اب اس کی باقاعدہ اجازت دیدی،کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد عمر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں فیری سروس ایران تک شروع کی جائے گی اور بعد ازاں اسے سعودی عرب، عمان، عراق اور یو اے ای تک بڑھایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سے ایران اور دیگر خلیجی ممالک کیلئے فیری سروس چلانے کا لائسنس جاری کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایک پرائیویٹ کمپنی نے فیری سروس چلانے کیلئے درخواست دی تھی، جس کا فیصلہ 7 سال بعد ہوا اور اب کمپنی کو پاکستان سے ایران فیری سروس چلانے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اس حوالے سے نجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد عمر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں فیری سروس ایران تک شروع کی جائے گی اور بعد ازاں اسے سعودی عرب، عمان، عراق اور یو اے ای تک بڑھایا جائے گا۔ وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انور چودھری نے کہا کہ فیری سروس سے تجارت، لاجسٹکس اور سفر کو فروغ ملے گا، پاک، عراق فیری سروس تعلقات کا نیا باب ثابت ہوگی۔ ایران اور جی سی سی ممالک سے فیری روٹس پر کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیری سروس
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔