اسلام آباد میں شراب فروخت کرنے کی اجازت، مگر کن شرائط پر؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اگرچہ مسلمانوں کے لیے شراب نوشی ممنوع ہے، تاہم قانون کے تحت شراب تیار کرنے کی اجازت موجود ہے، اور بعض ہوٹلوں کو محدود پیمانے پر شراب فروخت کرنے کا لائسنس بھی دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 ہوٹلز کو شراب فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں میریٹ، سرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک ہوٹلز کو شراب کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جو مخصوص شرائط کے تحت دیے جاتے ہیں۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چار مقامات پر شراب باضابطہ لائسنس لے کر فروخت کی جاتی ہے۔ اور اس کی شرائط بھی طے ہیں۔ pic.
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) August 8, 2025
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ایل ٹو شراب لائسنس کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر ہے، جب کہ اس کی سالانہ تجدید کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار روپے فیس وصول کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ لائسنس یافتہ فرد یا اس کے عملے پر لازم ہو گا کہ ایکسائز کمشنر کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ تمام احکامات اور ہدایات کی مکمل پابندی کریں۔
شرائط کے مطابق، ہوٹلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ شراب کو دیگر اشیاء سے الگ رکھا جائے۔ شراب کی نئی کھیپ کی آمد کے سات روز کے اندر اور کھولنے سے اڑتالیس گھنٹے پہلے متعلقہ ایکسائز افسر کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ ایکسائز افسر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی وجہ کے لائسنس منسوخ کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد کے ہوٹلوں میں شراب اسلام آباد میں شراب شراب شراب کی فروخت محسن نقوی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے ہوٹلوں میں شراب اسلام ا باد میں شراب شراب کی فروخت محسن نقوی اسلام آباد میں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔