WE News:
2026-06-03@06:53:40 GMT

اسلام آباد میں شراب فروخت کرنے کی اجازت، مگر کن شرائط پر؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

اسلام آباد میں شراب فروخت کرنے کی اجازت، مگر کن شرائط پر؟

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اگرچہ مسلمانوں کے لیے شراب نوشی ممنوع ہے، تاہم قانون کے تحت شراب تیار کرنے کی اجازت موجود ہے، اور بعض ہوٹلوں کو محدود پیمانے پر شراب فروخت کرنے کا لائسنس بھی دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 ہوٹلز کو شراب فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں میریٹ، سرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک ہوٹلز کو شراب کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جو مخصوص شرائط کے تحت دیے جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چار مقامات پر شراب باضابطہ لائسنس لے کر فروخت کی جاتی ہے۔ اور اس کی شرائط بھی طے ہیں۔ pic.

twitter.com/TOycqiJGxb

— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) August 8, 2025

بیان میں مزید بتایا گیا کہ ایل ٹو شراب لائسنس کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر ہے، جب کہ اس کی سالانہ تجدید کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار روپے فیس وصول کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ لائسنس یافتہ فرد یا اس کے عملے پر لازم ہو گا کہ ایکسائز کمشنر کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ تمام احکامات اور ہدایات کی مکمل پابندی کریں۔

شرائط کے مطابق، ہوٹلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ شراب کو دیگر اشیاء سے الگ رکھا جائے۔ شراب کی نئی کھیپ کی آمد کے سات روز کے اندر اور کھولنے سے اڑتالیس گھنٹے پہلے متعلقہ ایکسائز افسر کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ ایکسائز افسر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی وجہ کے لائسنس منسوخ کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد کے ہوٹلوں میں شراب اسلام آباد میں شراب شراب شراب کی فروخت محسن نقوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے ہوٹلوں میں شراب اسلام ا باد میں شراب شراب کی فروخت محسن نقوی اسلام آباد میں

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے