کراچی، زائرین کے مسائل کے حل کی کوشش کر رہا ہوں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ اربعین کے لیے عراق جانے والے زائرین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، امید ہے کہ آج دوپہر تک معاملات حل ہو جائیں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جس کے پیش نظر کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے میری درخواست پر بذریعہ روڈ روانگی مؤخر کر دی ہے، جبکہ کراچی سے حب جانے والا قافلہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بتایا کہ ان کی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری سے ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں زائرین کے مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زائرین کی قیادت سے ایک اور ملاقات آج دوپہر متوقع ہے، جس میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ زائرین کے مسائل کا ادراک ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بلا تاخیر اور باحفاظت اپنے مقدس سفر پر روانہ ہو سکیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان گورنر سندھ نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔