کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے دی جانے والی تاریخی شکست کو پوری قوم شاندار انداز میں منائے، کیونکہ ماضی کی جنگوں کا مشاہدہ صرف پرانی نسلوں نے کیا تھا، جبکہ موجودہ نوجوان نسل نے پہلی بار اپنی فضائیہ، بری فوج، بحریہ اور پوری قوم کو ایک ساتھ دشمن کو عبرتناک شکست دیتے دیکھا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سینیئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت سندھ بھر میں ضلعی سطح پر خصوصی تقریبات جاری ہیں، جن میں کھیلوں کے مقابلے، خواتین کی واکس، میوزیکل شوز، آتش بازی اور دیگر رنگا رنگ پروگرام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مزارِ قائد پر وزیر اعلیٰ سندھ، کابینہ اراکین اور خصوصی بچوں کے ساتھ یومِ آزادی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جبکہ 11 اگست کو اقلیتوں کے لیے خصوصی دن کے طور پر آزادی کے پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیدرآباد میں حکومت سندھ اور عارف حبیب کے تعاون سے شاندار میوزیکل ایوننگ آج ہونے جا رہا ہے ، 10 اگست کو سکھر میں رنگا رنگ میوزک پروگرام ہوگا، جبکہ 13 اگست کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان کا سب سے بڑا گرینڈ شو منعقد ہوگا، جس میں ملک کے معروف فنکار اور سیلیبرٹیز شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ سی ویو پر ڈونکی ریس اور بوٹس کی ریس جیسے منفرد ایونٹس بھی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بزنس کمیونٹی، اپوزیشن رہنماؤں، تمام پارلیمانی لیڈرز، مذہبی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کو ان تقریبات میں شامل ہونے کی دعوت دی، تاکہ یہ جشن کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ جشن بنے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سکھر، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان گرینڈ شوز میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اس جنگ میں پوری پاکستانی قوم نے اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اتحاد سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پارلیمانی وفد کے ہمراہ دنیا بھر میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

سینئر وزیر نے اسمبلی فلور اور میڈیا کے ذریعے دوبارہ عوام کو دعوت دی کہ 10 اگست کو سکھر، 13 اگست کو کراچی نیشنل اسٹیڈیم، اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کر کے جشنِ آزادی کو یادگار بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میمن نے کہا کہ اگست کو

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن