اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 اگست 2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں زچہ بچہ کی نگہداشت میں بدسلوکی عام ہے اور اندام نہانی کے 60 فیصد طبی معائنے خواتین کی رضامندی کے بغیر ہوتے ہیں۔

چار ممالک میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، گزشتہ دہائی میں سامنے آنے والے بہت سے شواہد دوران زچگی خواتین سے بدسلوکی کے وسیع تر اثرات اور زچہ بچہ کی صحت سے متعلق حکمت عملی میں باوقار نگہداشت یقینی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' کے انسانی تولیدی پروگرام (ایچ آر پی) اور اس کے شراکت داروں نے اس مسئلے پر گزشتہ روز ایک نیا معلوماتی مجموعہ جاری کیا ہے جس کا مقصد دوران زچگی بدسلوکی کا خاتمہ کرنا اور زچہ بچہ کی باوقار نگہداشت کو فروغ دینا ہے۔

(جاری ہے)

اس میں مسئلے کے بارے میں تازہ ترین حقائق اور بہتر طریقہ ہائے کار سے متعلق رہنمائی بھی شامل ہے۔

یہ مجموعہ معلومات پالیسی سازی سے لے کر علاج کے مراکز اور مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی تک خواتین، نومولود بچوں، والدین اور خاندانوں کے حقوق، ضروریات اور ترجیحات کو برقرار رکھنے کے لیے قابل عمل اقدامات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

لاپروائی، جبر اور تفریق

اس جائزے میں بتایا گیا ہے کہ زچگی کے دوران ناروا سلوک پر مبنی طرزعمل لاپروائی، خواتین کی رضامندی کے بغیر طبی عمل اور کئی طرح کی بدسلوکی کا احاطہ کرتا ہے۔

اس میں 'ڈبلیو ایچ او' کے ایک سابقہ جائزے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق زیرجائزہ رہنے والے چاروں ممالک میں 40 فیصد خواتین کو زچگی سے قبل اور اس کے دوران کسی نہ کسی طرح کی بدسلوکی یا امتیازی سلوک کا سامنا ہو چکا ہے۔

بعض خواتین نے یہ بھی بتایا کہ انہیں دوران زچگی طبی عملے نے تھپڑ مارے، ان پر چیخا چلایا گیا یا انہیں جبراً قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔

محققین کے مطابق، چاروں ممالک میں 40 فیصد سے بھی زیادہ خواتین کو زچگی کے دوران جسمانی یا زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بعض نے امتیازی سلوک کے بارے میں بھی بتایا۔ علاوہ ازیں، 75 فیصد انتہائی حساس طبی عمل خواتین کی رضامندی کے بغیر کیے گئے۔

باوقار طبی نگہداشت

'ڈبلیو ایچ او' کی عہدیدار ڈاکٹر حیدیہ مہرتاش نے کہا ہے کہ عام طور پر خواتین فیصلہ سازی کا حصہ نہیں ہوتیں اور ان سے توہین آمیز یا برا سلوک کیا جاتا ہے۔

زچہ بچہ کی باوقار نگہداشت کو پالیسی اور عملی اقدامات میں مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اس مجموعہ معلومات میں ممالک کے لیے اس مسئلے پر عملی طریقہ کار دیے گئے ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ طبی نظام کے ہر پہلو میں زچہ بچہ کی نگہداشت کے معاملے میں وقار، مساوات اور احترام کو مرکزی اہمیت دی جائے۔

مجموعہ معلومات میں ایسے اہم شعبوں کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے جہاں بدسلوکی عام طور پر نظرانداز ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بدسلوکی اور باوقار نگہداشت سے متعلق بنیادی نوعیت کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے ضروری پس منظر بھی مہیا کرتا ہے اور اس کا مقصد باوقار طریقہ ہائے کار کو فروغ دینا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خواتین کی رضامندی کے بغیر باوقار نگہداشت ڈبلیو ایچ او زچہ بچہ کی

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک