اسد قیصر کی پریس کانفرنس گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے،عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپوزیشن رہنما اسد قیصر کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسےگمراہ کن اور حقائق کے منافی” قرار دیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات عوام کے مفاد میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، جس کے واضح اشارے مختلف معاشی اشاریوں سے ملتے ہیں۔
ترسیلات زر، کرنٹ اکاؤنٹ اور مہنگائی پر حقائق واضح ہیں
وفاقی وزیر نے کہا کہ کیا آپ کو یہ قابل قبول نہیں کہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر کی سطح کو چھو چکی ہیں؟ کیا آپ یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ کرنٹ اکاؤنٹ اب 2.
عالمی اداروں کی درجہ بندی بہتر، اپوزیشن پھر بھی تنقید پر بضد
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے درجہ بندی میں بہتری کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
کیا یہ حقیقت آپ کو تسلیم نہیں ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے؟
9 مئی کے واقعات پر سزا، اپوزیشن کو انصاف سے تکلیف
وفاقی وزیر اطلاعات نے 9 مئی 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس دن ایک منظم سازش کے تحت ریاستی اداروں پر حملے کیے گئے۔ ان سنگین جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جن کا فیصلہ شفاف اور منصفانہ ٹرائل کے بعد ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کو اصل تکلیف اسی بات کی ہے کہ ریاست پر حملے کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے حقائق تسلیم کریں: حکومت کا اپوزیشن کو پیغام
عطاء اللہ تارڑ نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے معاشی بہتری اور قومی اداروں کی کامیابیوں کو تسلیم کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو گمراہ کرنے کی سیاست اب قابلِ قبول نہیں۔ Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ کی جانب کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔