موجودہ علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں ایک اہم انٹرویو(2)
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام ٹائمز: رہبر معظم کے مشیر برائے بین الاقوامی امور نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج یمنیوں نے صیہونی حکومت اور امریکہ کو مایوس کر دیا ہے اور مستقبل میں شام کی مزاحمت بھی ابھرے گی اور اسرائیل کے منصوبوں کو پہلے سے زیادہ ناکام بنا دے گی۔ ولایتی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ دشمن کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کے باوجود آج کی مزاحمت ماضی کی نسبت زیادہ مربوط اور طاقتور ہوگی اور خطے میں امریکی اور صیہونی منصوبوں کی روک تھام کرے گی۔ ڈاکٹر ولایتی کا کہنا تھا کہ ایران مزاحمت کا مرکز ہے اور مزاحمت کی حمایت واضح اور جرأت کے ساتھ کرتا ہے اور جلد ہی خطے کے تمام لوگ دیکھ لیں گے کہ علاقے کے عوام اور مزاحمت کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی
انٹرویو کا دوسرا حصہ
حزب اللہ کا تخفیف اسلحہ ایک خواب ہے، جسکی تعبیر نہیں ملے گی
لبنان میں حالیہ پیش رفت کے بارے میں اس گفتگو کے ایک اور حصے میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے مشیر برائے بین الاقوامی امور نے لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے اس ملک کی حکومت کے ایک حصے کے سیاسی فیصلے پر(جو کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی رہنمائی میں انجام پا رہا ہے،) کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ لبنان میں بعض افراد نے اس طرح کی بحثیں کی ہیں، لیکن جس طرح کے لبنان مخالف منصوبے پہلے کامیاب نہیں ہوئے تھے، اس بار بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچیں گے اور مزاحمتی قوتیں ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ ولایتی نے تاکید کی ہے کہ ماضی میں جس وقت مزاحمت کے پاس وسائل اور طاقت کم تھی، وہ ان منصوبوں کو روک چکی ہے، اب تو اس کے پاس عوامی حمایت اور بہت زیادہ وسائل ہیں، ان شاء اللہ یہ بحثیں یقینی طور پر نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج لبنان میں مزاحمت تمام لبنانیوں بشمول عیسائیوں، شیعوں، سنیوں وغیرہ کے درمیان مقبول ہے، کہا ہے کہ مزاحمت کا مطلب ہے لبنان کی عزت اور لبنان کی زندگی۔ لبنان کی سلامتی مزاحمت پر منحصر ہے۔ لبنانی عوام یہ نہیں بھولے کہ جب مزاحمت نہیں تھی، 1982ء کے آس پاس، اسرائیلیوں نے بیروت اور مضافات تک جنوب کی طرف پیش قدمی کی، لیکن آخرکار حزب اللہ کی مزاحمت کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ ایران کے سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ سیاسی بحثیں ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ صیہونیوں نے امریکہ کی مدد سے شہید سید حسن نصراللہ جیسے عظیم لوگوں کو قتل کیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ حزب اللہ کمزور ہوگئی ہے، جبکہ حزب اللہ کا بہت طاقتور ادارہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔ حزب اللہ اب 1961ء اور 1962ء کے مقابلے میں بہت زیادہ مزاحمتی ہوچکی ہے۔ حزب اللہ اگر نہ ہوتی تو اسرائیلی لبنان پر وہی مصیبت لاتے جو فلسطین پر لائے ہیں۔ اس لیے حزب اللہ جس نے لبنان کی حفاظت کی ہے، خود کو ان امریکی منصوبوں سے بھی بچائے گی۔
ولایتی نے تاکید کی ہے کہ لبنانی عوام اور خطے کی اقوام کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا لبنانی حکومت کو اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کی کوئی فکر نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے منصوبے پیش کر رہی ہے۔؟ اگر حزب اللہ اپنے ہتھیار ڈال دے تو لبنانیوں کی جان، مال اور عزت کا دفاع کون کرے گا۔؟ کیا ماضی کے تجربات سے اس ملک کے سیاستدانوں نے سبق نہیں سیکھا۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ لبنان میں یہ عمل صرف امریکہ اور اسرائیل کی مرضی ہے، انہوں نے مزید کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سمجھتے ہیں کہ وہ لبنان میں ایک اور جولانی کو اقتدار میں لاسکتے ہیں، لیکن یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور لبنان ہمیشہ کی طرح ثابت قدم رہے گا۔ بین الاقوامی امور میں رہبر معظم کے مشیر نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران یقینی طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے خلاف ہے، کیونکہ ایران نے ہمیشہ لبنانی قوم اور مزاحمت کی مدد کی ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔
ایران اور عراق حشد و شعبی کے تخفیف اسلحہ کے خلاف ہیں
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے مشیر ڈاکٹر ولایتی نے انٹرویو کے ایک اور حصے میں، عراق میں حشد الشعبی کے خلاف امریکہ کی سازشوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حشد الشعبی کسی ایک گروپ کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ولایتی نے عراق کے سابق وزیراعظم جناب نوری المالکی کے ساتھ اپنی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کی طرف اشارہ کیا اور کہا، جناب نوری المالکی ایک بہادر شخص ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دوران صدام کو سزائے موت سنائی اور MKO گروپ کو عراق سے نکال باہر کیا۔ ایک حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان کے بعد عراق میں حشد الشعبی کو ختم کرنے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ تاہم، مسٹر مالکی اور میں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عراق دونوں حشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت کریں گے اور اس کے خلاف کھڑے ہوں گے، خواہ وہ لبنان میں حزب اللہ کی تخفیف اسلحہ ہو یا عراق میں حشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کا اقدام ہو۔
انہوں نے مزید کہا: اگر حشد الشعبی نہ ہو تو امریکی عراق کو نگل جائیں گے، کیونکہ پاپولر حشد الشعبی عراق میں وہی کردار ادا کرتی ہے، جو حزب اللہ لبنان میں ادا کرتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ لبنان میں حزب اللہ کی تخفیف اسلحے کو کیسے روکا جائے اور لبنان میں اندرونی محاذ آرائی کے لیے اسرائیلی اور امریکی منصوبوں کا مقابلہ کیسے ناکام کیا جائے، سپریم لیڈر کے بین الاقوامی امور کے مشیر نے کہا ہے کہ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ لبنانی دانشور ان لوگوں کے خلاف کھڑے ہوں، جو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسری صورت میں مزاحمت اس کے خلاف کھڑی ہوگی اور ہم بھی مزاحمت کا ساتھ دیں گے۔ لبنانی دانشوروں کو اس غیر متعلقہ اور نقصان دہ منصوبے کو ناکام بنانا چاہیئے۔
ولایتی نے کہا ہے کہ لبنان شام جیسا نہیں ہے اور وہاں جولانی جیسے کو اقتدار میں نہیں لایا جا سکتا۔ میری رائے میں لبنان کے اندر ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس کو روک سکتے ہیں۔ کیونکہ لبنانی عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ داعش اور جولانی جیسے دہشت گردوں کے خلاف ان کی سلامتی، جان و مال اور عزت و آبرو کی محافظ صرف حزب اللہ ہے۔ شام کی قسمت اور ترقی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ شام میں اب کیا ہو رہا ہے۔؟ شام میں بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور جولانی برسراقتدار آگیا، لیکن نتیجہ کیا نکلا۔؟ اسرائیل اس ملک کے خلاف ہر جرم کر رہا ہے اور شام کے ٹوٹنے کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ لبنانی عوام ان واقعات کو دیکھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے پاس جو تحفظ ہے، وہ حزب اللہ کی موجودگی ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں کے بارے میں جو تخفیف اسلحہ کی سازش کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ "موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مفاد میں ہے، اسرائیل نے بنیادی طور پر اس جنگ بندی کو استعمال کرتے ہوئے خود کو برقرار رکھا ہے، جبکہ جنگ بندی کو حزب اللہ کے دفاع میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔" اس گفتگو کے ایک اور حصے میں ولایتی نے یمنی مزاحمت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ یمن مزاحمت کے محور کے بیچ میں ایک روشن ستارہ ہے، جسے خدا نے مزاحمت کی مدد کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ "یمن کے لوگ نہ صرف علاقے میں مزاحمتی بلاک کی مدد کر رہے ہیں بلکہ ان کے پاس باب المندب بھی ہے اور وہ آبنائے باب المندب میں اپنے اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بناکر امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر کے منصوبے کے خلاف کھڑے ہیں۔" امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ٹرومین اس کی ایک مثال ہے، جسے درجنوں بار نشانہ بنایا گیا اور وہ بالآخر ٹرمپ کے حکم پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔
رہبر معظم کے مشیر برائے بین الاقوامی امور نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج یمنیوں نے صیہونی حکومت اور امریکہ کو مایوس کر دیا ہے اور مستقبل میں شام کی مزاحمت بھی ابھرے گی اور اسرائیل کے منصوبوں کو پہلے سے زیادہ ناکام بنا دے گی۔ ولایتی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ دشمن کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کے باوجود آج کی مزاحمت ماضی کی نسبت زیادہ مربوط اور طاقتور ہوگی اور خطے میں امریکی اور صیہونی منصوبوں کی روک تھام کرے گی۔ ڈاکٹر ولایتی کا کہنا تھا کہ ایران مزاحمت کا مرکز ہے اور مزاحمت کی حمایت واضح اور جرأت کے ساتھ کرتا ہے اور جلد ہی خطے کے تمام لوگ دیکھ لیں گے کہ علاقے کے عوام اور مزاحمت کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لبنان میں حزب اللہ بین الاقوامی امور کو غیر مسلح کرنے صیہونی حکومت نے کہا ہے کہ تخفیف اسلحہ لبنانی عوام اور اسرائیل نے اس بات پر ہے کہ لبنان حزب اللہ کی کے بارے میں حشد الشعبی امریکہ اور اور مزاحمت مزاحمت کے مزاحمت کی مزاحمت کا کی مزاحمت انہوں نے لبنان کی نے تاکید کہ ایران کے مشیر رہے ہیں کے خلاف ایک اور میں ایک کے ساتھ ہے اور رہا ہے کے لیے کہ اور کے ایک گی اور کے پاس اور وہ کی مدد اور اس
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔