پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 147 ہزار پوائنٹس کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوپہر 3 بج کر 15 منٹ پر انڈیکس 146,910.57 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 1,527.78 پوائنٹس یا 1.05 فیصد کا اضافہ ہے۔

آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جبکہ بڑے حصص جیسے اے آر ایل، این آر ایل، ایم اے آر آئی، پی او ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ رقم کردی، انڈیکس 1,43,000 کی سطح پر پہنچ گیا

ماہرین کے مطابق اس مثبت رجحان کی وجہ کئی سازگار معاشی اور کارپوریٹ عوامل ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کا تسلسل پالیسی استحکام فراہم کر رہا ہے اور اہم مالی و ساختی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنا رہا ہے، جو بہتر بیرونی اور مالیاتی کھاتوں کی پوزیشن کے ساتھ وابستہ ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق پرکشش شیئر ویلیو ایشنز سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھا رہی ہیں، خاص طور پر جب دیگر اثاثہ جات، جیسے ریئل اسٹیٹ، زیادہ تر جمود کا شکار ہیں، مزید برآں، کئی لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے ریکارڈ منافع کی رپورٹس بھی مارکیٹ میں تیزی کا باعث بن رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اپنا تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 4,348 پوائنٹس یعنی 3.

1 فیصد بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 145,383 پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ کا اصل سبب کیا ہے؟

بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی مارکیٹوں میں پیر کو معمولی تیزی دیکھی گئی، جو ٹیک سیکٹر کی بلند قیمتوں اور کمپنیوں کی بہتر آمدنی سے تقویت پا رہی ہے، تاہم، امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار اور تجارتی و جغرافیائی سیاسی امور پر سرمایہ کاروں کی نظر ہے۔

امریکی اور چینی تجارتی ٹیرف پر ڈیڈلائن منگل کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بارے میں امکان ہے کہ اسے دوبارہ بڑھا دیا جائے گا، اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جمعہ کو الاسکا میں یوکرین پر ملاقات کریں گے۔

امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس کے منگل کو جاری ہونے والے اعداد و شمار سے یہ طے ہوگا کہ ڈالر اور بانڈ مارکیٹ کس سمت جائیں گے، معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ توقع سے زیادہ ہوا تو ستمبر میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ ستمبر میں کمی کے 90 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس آئی ایم ایف اثاثہ جات پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریئل اسٹیٹ ریکارڈ منافع سازگار کارپوریٹ کنزیومر پرائس انڈیکس کے ایس سی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس ا ئی ایم ایف اثاثہ جات پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریئل اسٹیٹ ریکارڈ منافع سازگار کارپوریٹ کنزیومر پرائس انڈیکس کے ایس سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مطابق

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں