نمائندگی عوام کے ووٹ سے حاصل ہونی چاہیئے نہ کہ بی جے پی کے حکم سے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
پی ڈی پی کی سربراہ نے کہا کہ ریاست کی غیرقانونی تقسیم، متعصبانہ حدبندی اور امتیازی سیٹ ریزرویشن کے بعد یہ نامزدگی جموں و کشمیر میں جمہوریت کے تصور پر ایک اور بڑا حملہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں 5 اراکین اسمبلی کو نامزد کئے جانے کے مودی حکومت کے فیصلہ پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلٰی اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انتخاب کرانے کے بعد جموں و کشمیر میں 5 اراکین اسمبلی کو نامزد کرنے کا فیصلہ جمہوری اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک میں کہیں اور مودی حکومت عوام کے مینڈیٹ کو درکنار کر اراکین اسمبلی کو منمانے طور سے منتخب نہیں کرتی ہے۔ طویل عرصے سے نبرد آزما واحد مسلم اکثریتی علاقے میں یہ قدم حکمرانی سے زیادہ کنٹرول جیسا محسوس ہوتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کی غیرقانونی تقسیم، متعصبانہ حد بندی اور امتیازی سیٹ ریزرویشن کے بعد یہ نامزدگی جموں و کشمیر میں جمہوریت کے تصور پر ایک اور بڑا حملہ ہے۔ نمائندگی عوام کے ووٹ سے حاصل ہونی چاہیئے نہ کہ مرکز کے حکم سے، اسے ایک عام رواج بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ محبوبہ مفتی نے یہ بھی کہا کہ امید ہے عمر عبداللہ کی حکومت اس غیر جمہوری مثال کو چیلنج دینے کے لئے آگے آئے گی، کیونکہ ابھی کی خاموشی مستقبل میں رضامندی کے مترادف ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منتخب حکومت کی مدد اور صلاح کے بغیر بھی جموں و کشمیر اسمبلی میں 5 اراکین کو نامزد کر سکتے ہیں۔ روزنامہ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ذریعہ عدالت میں دئے گئے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ نامزدگی جموں و کشمیر کی منتخب حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ واضح ہو کہ 5 اراکین اسمبلی کی تقرری کے فیصلہ کو کانگریس لیڈر رویندر کمار شرما نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس پر 14 اگست کو سماعت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اراکین اسمبلی محبوبہ مفتی نے کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔