بھارت: دانتوں کے ڈاکٹر نے ساس کو قتل کردیا، لاش کے 19 ٹکڑے کرکے مختلف مقامات پر پھینک دیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کرناٹک کے ضلع تُماکور میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب 7 اگست کو پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک آوارہ کتا انسانی بازو منہ میں لیے گھوم رہا ہے۔ پولیس فوراً کوراٹاگیرے کے چِمپُوگاناہلّی گاؤں پہنچی، جہاں سے 5 کلومیٹر کے دائرے میں تلاشی کے دوران عورت کے جسم کے ٹکڑے 19 مختلف مقامات سے برآمد ہوئے، البتہ سر غائب تھا۔
ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ مقتولہ ایک خاتون ہے۔ اس کے جسم پر موجود زیورات سے ظاہر ہوا کہ یہ واردات لوٹ مار کے لیے نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے انڈیا: ضعیف خاتون کو ‘چڑیل’ قرار دے کر قتل کردیا گیا، منصوبہ 5 سال پرانا تھا
لاپتہ خواتین کی فہرست میں 42 سالہ بی لکشمی دیوی عرف لکشمی دیواما کا نام نمایاں ہوا، جنہیں شوہر باسوراج نے 3 اگست کو بیٹی تیجسوی کے گھر سے روانہ ہونے کے بعد لاپتہ رپورٹ کرایا تھا۔ 2 دن بعد، مقتولہ کا سر کوراٹاگیرے کے ایک سنسان مقام سے ملا، جسے شوہر نے شناخت کر لیا۔
سفید ایس یو وی اور جعلی نمبر پلیٹیں
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 3 اگست کی دوپہر ایک سفید ایس یو وی ہانومانتاپورا سے کوراٹاگیرے کی سمت گئی تھی، جس پر آگے اور پیچھے الگ الگ جعلی نمبر پلیٹیں لگی ہوئی تھیں۔ مزید سراغ ملا کہ گاڑی پہلے ستیش نامی کسان کے نام رجسٹر تھی، لیکن اصل خریدار تُماکور میں رہنے والا دانتوں کا ڈاکٹر رام چندر تھا۔
رشتے میں تنازع
ڈاکٹر رام چندر مقتولہ کی بیٹی تیجسوی کے شوہر ہیں۔ پولیس کے مطابق، ڈاکٹر کو شک تھا کہ ساس اس کی شادی میں مداخلت کر رہی ہے اور بیٹی پر غلط دباؤ ڈال رہی ہے۔ وہ اس بات کو اپنے خاندان کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ 6 ماہ قبل ڈاکٹر نے ساس کے قتل کا منصوبہ بنایا، ایس یو وی ستیش کے نام پر خریدی اور ستیش اور کرن کو 4 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ جب کہ 50 ہزار روپے ایڈوانس میں دیدیے۔
یہ بھی پڑھیے شوہر کو کیسے قتل کیا جائے؟ بھارتی خاتون نے یوٹیوب سے طریقہ سیکھ کر ’کامیاب واردات’ کر ڈالی
قتل اور اعضا کی منتقلی
3 اگست کو لکشمی دیوی جیسے ہی بیٹی کے گھر سے نکلیں، ڈاکٹر نے لفٹ دینے کے بہانے انہیں گاڑی میں بٹھایا۔ گاڑی کے اندر ستیش اور کرن پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیا اور لاش ستیش کی زمین پر لے گئے۔ اگلے دن، تیز دھار اوزار سے جسم کو جوڑوں سے الگ کر کے 19 سنسان مقامات پر پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق، جسم کاٹنے کا عمل انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے مرد نے پارٹنر اور اسکی 3 سالہ بیٹی کو گلا گھونٹ کر قتل کیا، لپ اسٹک سے دیوار پر اعتراف جرم تحریر کیا
پولیس نے ڈاکٹر رام چندر، ستیش اور کرن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کرناٹک خاتون قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :