صدرزرداری سے وفاقی وزیر مذہبی امور کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اگست2025ء)صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ، مذہبی رواداری کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔منگل کو جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے وزارت مذہبی امور کی اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے کاوشوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ اقلیتی فلاحی فنڈ سے 2ہزار 236طلبہ کو 6کروڑ روپے کے تعلیمی وظائف دیئے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار 231ضرورت مند افراد کو مالی امداد فراہم کی گئی۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر نے کہا کہ 32اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت اور تزئین کیلئے 4کروڑ 50لاکھ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا کہ بیساکھی، گورو نانک دیو جی کی سالگرہ، کٹاس راج اور سادھو بیلا جیسی تقریبات کیلئے سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام کیلئے مختلف مذاہب کے علما سے مشاورت کی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اقلیتی برادری کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے فروغ میں دلچسپی اور تعاون پر صدر آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔