بجلی کی بندش پر احتجاج میں گولی چل گئی، کئی زخمی، 24 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سٹی42: بجلی کی فراہمی میں تعطل آنے پر احتجاج میں تشدد سے پولیس اہلکار اور متعدد دیگر افراد زخمی ہو گئے، پولیس نے 24 احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر لیا۔
بجلی بند ہونے پر احتجاج کے دوران تشدد پھوٹنے کا واقعہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ کے قریبی علاقہ پیر پائی میں ہوا، میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی بندش کے خلاف نوشہرہ میں احتجاج کے دوران تشدد میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 24 افراد کو گرفتار کر لیا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج کے دوران جھڑپ میں ایک پولیس کانسٹیبل اور کئی دوسرے افراد زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے 24 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
ہنگامہ آرائی کے بعد اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عاقب خان کی مدعیت میں ازاخیل پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 148 (ہتھیار سے مسلح ہو کر ہنگامہ آرائی)، 149 (غیر قانونی اجتماع)، 324 (اقدام قتل)، 341 (غلط طور پر راستہ روکنے کی سزا)، 353 (سرکاری ملازم کو اس کے فرائض سے روکنا یا حملہ آور ہونا) اور 427 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق پیرپائی کے رہائشی مین جی ٹی روڈ پر بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے سڑک بھی بند کردی تھی۔ پولیس کو اطلاع ملی تو وہ موقع پر پہنچی۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
مظاہرین کی قیادت علاقے کے مقامی حکومتی نمائندے کر رہے تھے۔ انتظامیہ نے سڑک کھلوانے کے لیے مذاکرات کیے تاکہ عام لوگوں کو دشواری نہ ہو،۔ پولیس کی درخواست پر مظاہرین منتشر نہ ہوئے اور پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوا۔
ایف آئی آر میں 24 گرفتار مظاہرین کے نام شامل ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر ملزمان، جو سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تھے، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
رونالڈو نے 8 سال تک ڈیٹنگ کے بعد جورجینا سے منگنی کر لی
موقع پر موجود مقامی کارکن یاسین شاہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ جھڑپ کے دوران پولیس تشدد سےبھی کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ احتجاج میں شامل لوگ بجلی کی بندش میں کمی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
نوشہرہ میں کل بھی بجلی کی بندش کو لے کر احتجاج ہوا تھا تاہم اس احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا تھا۔
کچھ ہفتے پہلے جون میں بھی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول پشاور، چارسدہ، پجگی، حاجی کیمپ اور ستی ٹاؤن میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج ہوا تھا۔
بانی تحریک انصاف کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: احتجاج کے دوران بندش کے خلاف بجلی کی بندش زخمی ہو
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔