حکومت سندھ کا کراچی کے شہریوں کو سستی بجلی کی فراہمی سے متعلق بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کراچی کے شہریوں کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے سندھ کے وزیرِ توانائی ناصر حسین شاہ نے بڑا اعلان کر دیا۔
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ کراچی کی صنعت اور رہائشیوں کو سیپرا کے تحت سستی بجلی فراہم کی جائے گی، سستی بجلی کے نرخ کے الیکٹرک کی نسبت بہت کم ہوں گے۔
وزیرِ توانائی سندھ نے کہا کہ بجلی ہم خود بنائیں گے اور ایس ٹی ڈی سی کے تحت خود ترسیل کریں گے، بجلی کے نرخ بھی اب ہم خود طے کر سکیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایس ٹی ڈی سی کی ترسیل شدہ بجلی کا نیپرا کے نرخوں سے تعلق نہیں ہوگا اور ایس ٹی ڈی سی سے ترسیل کی گئی بجلی کا نرخ نیپرا سے بہت کم ہوگا، سیپرا میں لوگوں کو بھرتی کر لیا گیا ہے اور رواں ماہ اگست ہی نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہماری بنیادی توجہ کا مرکز اکنامک زونز ہیں، ہماری کوشش ہے کہ سیپرا کے تحت بجلی کی پہلی ترسیل کے فور کے گرڈ کو فراہم کی جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے سندھ اسمبلی سے سیپرا کو آئینی طور پر منظور کروا لیا ہے، اب کراچی کے شہری بھی سستی بجلی حاصل کر سکیں گے، تاہم ترسیلی نظام ایس ٹی ڈی سی کے پاس ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے بورڈ میں سندھ کی نمائندگی نہیں ہے، وفاق کے 3 ڈائریکٹر ہیں۔ وفاق سے کہا ہے کہ 1 نمائندہ وفاق کا ہو اور باقی 2 سندھ سے ہوں۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا کے الیکٹرک کو سولر پارکس کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا ہے، کے الیکٹرک سے کہا ہے کہ سولر سے جب بجلی بن رہی ہے تو مہنگے ایندھن والی بجلی نہ خریدیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ٹی ڈی سی کے الیکٹرک سستی بجلی نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔