UrduPoint:
2026-07-24@05:05:42 GMT

سندھ طاس تنازع: پاکستان کی طرف سے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT

سندھ طاس تنازع: پاکستان کی طرف سے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 اگست 2025ء) بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں اپریل میں ہونے والے حملے کے بعد، جس میں 26 سیاح مارے گئے تھے، بھارت نے پاکستان کے خلاف جو تادیبی اقدامات کیے تھے، ان میں سندھ طاس آبی معاہدے کی معطلی بھی شامل تھی۔

پاکستان نے اس کے خلاف بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

یہ فیصلہ آٹھ اگست کو سنایا گیا اور پیر کے روز اس عدالت کی ویب سائٹ پر شائع بھی کر دیا گیا۔ اس میں بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں،چناب، جہلم اور سندھ پر تعمیر کیے جانے والے نئے رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن کے معیار کی تشریح کی گئی ہے۔

عالمی بینک کی ثالثی میں کیا گیا یہ سندھ طاس آبی معاہدہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کو دونوں ممالک کے درمیان منظم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

ثالثی عدالت کی طرف سے پاکستان کے حق میں سنائے گئے فیصلے کے بعد پیر کے روز اسلام آباد نے نئی دہلی سے اس معاہدے کو فوراﹰ بحال کرنے کی اپیل کی۔

بھارت نے 22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے میکنزم میں اپنی شمولیت معطل کر دی تھی، جو اس کی طرف سے کیے گئے متعدد تادیبی اقدامات کا حصہ تھی۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود عناصر پر لگایا تھا، جب کہ پاکستان نے اس کی تردید کی اور غیر جانبدارانہ انکوائری پر زور دیا تھا۔

ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کئی متنازع ڈیزائن کے معاملات، جیسے کم سطح کے آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپل ویز، ٹربائن انٹیکس اور فری بورڈ پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی، جبکہ بھارت کے رن آف دی ریور منصوبوں کے لیے ذخائر کی زیادہ سے زیادہ گنجائش بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔

پاکستان نے کیا کہا؟

پیر کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا، ''یہ پاکستان کے تاریخی موف کی توثیق ہے‘‘ اور اس میں معاہدے کو معطل کرنے کے بھارت کے یک طرفہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ''یہ فیصلہ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، اور اس سے قبل عدالت کی کارروائیوں کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

‘‘

ترجمان نے کہا، ''پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے پرعزم ہے، اور توقع کرتا ہے کہ بھارت فوری طور پر اس معاہدے کے معمول کے کام کو بحال کر دے گا، اور ثالثی عدالت کے فیصلے پر مخلصانہ عمل درآمد کرے گا۔‘‘

بھارت کا تاحال کوئی ردعمل نہیں

اس نئی پیش رفت پر بھارت کا تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں وہ ثالثی عدالت کے فیصلوں پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔

جب نئی دہلی نے اس معاہدے کو معطل کیا تھا، تو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ بھارت کبھی بھی اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کرے گا، اور وہاں جانے والے پانی کا رخ اندرونی استعمال کے لیے موڑ دیا جائے گا۔

تب انہوں نے کہا تھا، ’’وہ پانی جو پاکستان جا رہا تھا، ہم ایک نہر بنا کر راجستھان لے جائیں گے۔

پاکستان کو اس پانی سے محروم کر دیا جائے گا، جو وہ ناحق حاصل کر رہا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ بھارت سے نکلنے والے تین دریاؤں کے ذریعے پاکستان کی 80 فیصد زرعی زمین کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ثالثی عدالت کا تازہ ترین فیصلہ اسلام آباد کو نئی سفارتی قوت اور نئی دہلی کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سندھ طاس معاہدے ثالثی عدالت پاکستان کے پاکستان نے معاہدے کو اس معاہدے کی طرف سے بھارت نے کہ بھارت عدالت کی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم