حملہ بروقت ناکام نہ بناتے تو مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں بڑی تباہی ہوتی، آئی جی کے پی
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
پشاور:
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ 11 مئی کو پشاور میں دہشتگردی کا حملہ بروقت ناکام نہ بناتے تو مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں بڑی تباہی ہوتی۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کے پی نے کہا کہ دہشتگردوں کا ہدف جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا جلسہ تھا جنہیں ہدف پر پہنچنے نہیں دیا گیا، یہ رواں سال دہشت گردی کی بڑی کارروائی تھی جو ناکام بنائی گئی۔
یاد رہے کہ 11 مئی کو پشاور میں جے یو آئی کا جلسہ تھا جس کے لیے 4خود کش بمبار آئے تھے جن میں سے تین کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ایک کو پولیس نے روکا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ دھماکے میں چمکنی پولیس کے دو اہلکار شہید ہوئے تھے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ محرم میں کوہاٹ میں بھی قبل ازوقت حملے کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار پولیس نے دہشتگردوں کا ڈرون گرایا، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سے بنوں میں دو ڈرون گرائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ باجوڑ آپریشن سے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، ملاکنڈ میں دہشت گردوں کی تشکیل آئی تھی اور پولیس آپریشن سے دہشت گرد بھاگ گئے۔
آئی جی کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی جگہ موٹروے اور ہائی ویز پر دہشت گرد ناکہ موجود نہیں، ڈی آئی خان سے کوئٹہ سفر کیا جا سکتا ہے کیونکہ سیکیورٹی حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔