فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
امریکا کے کامیاب دورے اور بھارتی عزائم کو بے نقاب کرنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی میں استحکام پاکستان پارٹی کے ایم پی اے شعیب صدیقی نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرائی جس میں فیلڈ مارشل کے کامیاب امریکی دورے اور بھارتی عزائم بے نقاب کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بھارت کا دہشت گردانہ چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب کرنا اورملکی وقار بلند کرنا قابل ستائش ہے۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیمیں قراردینا فیلڈ مارشل کی کاوشوں کا ثمر ہے، پاکستان میں بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کے مؤقف کی عالمی سطح پر توثیق بڑی کامیابی ہے۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کا ایوان سمجھتا ہے کہ" را "کے فتنہ الہندوستان کے ساتھ روابط ہیں، بھارت پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے فتنہ الہندوستان کو مالی امداد فراہم کرتا جبکہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی کا واضح ثبوت ہیں۔
قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ بھارت کے دہشت گردانہ عزائم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہیں، پنجاب اسمبلی کا ایوان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوکامیاب امریکی دورہ پر مبارکباد پیش کرتا۔
متن میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تناظر میں بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنا نا گزیر تھا، یہ ایوان دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اندرونی وبیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی میں خراج تحسین پیش پاکستان میں فیلڈ مارشل
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔