دبئی ایکسپو سٹی میں پاکستان کا سب سے بڑا جشنِ آزادی میلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست2025ء) متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کی شاندار تقریبات کا آغاز دبئی ایکسپو سٹی کے دبئی ایگزیبیشن سینٹر میں ہوگیا۔ یہ تاریخی موقع "امارات لوز پاکستان" اور پاکستان ایسوسی ایشن دبئی (پی اے ڈی) کے اشتراک اور دبئی پولیس کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا جشنِ آزادی پاکستان قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اس موقع پر یو اے ای حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار سے زائد افراد اس میگا ایونٹ میں شرکت کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے فنکار، گلوکار اور پرفارمرز پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے کو موسیقی، رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے ذریعے پیش کریں گے۔(جاری ہے)
تقریب میں یو اے ای کے وزیر برائے رواداری و بقائے باہمی، شیخ نھیان بن مبارک آل نھیان، سفیر فیصل نیاز ترمذی، پاکستانی قونصل جنرل حسین محمد، سفارتی نمائندے، اماراتی معززین اور بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کے اراکین شریک ہیں۔ یہ دن بھر جاری رہنے والا پروگرام صبح 11 بجے سے رات 12 بجے تک جاری رہے گا، جس میں پاکستان کے معروف نیشنل اسٹار سہیر علی بگا، صوفی راک سنگر نتاشا بیگ اور کہانی کار یوسف بشیر قریشی براہِ راست پرفارم کریں گے۔ ساتھ ہی ثقافتی ڈسپلے، لوک رقص، آرٹ نمائش اور روایتی فوڈ اسٹالز پاکستان کے بھرپور ورثے اور پاک–امارات دوستی کی عکاسی کریں گے۔ قونصل جنرل حسین محمد نے "امارات لوز پاکستان" اور پی اے ڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کے یو اے ای کی ترقی میں کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مقامی قوانین اور روایات کا احترام کرنے کی تلقین کی۔ پی اے ڈی کے صدر ڈاکٹر فیصل اکرام نے برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اتحاد، ترقی اور کمیونٹی اسپرٹ کی اہمیت پر زور دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں پاکستان پاکستان کے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔