اسلام آباد(نیوز ڈیسک )پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ تصادم میں راکٹس اور میزائلوں کے کامیاب استعمال کے بعد اب ایک نئی ’آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘ کی تشکیل کا اعلان کردیا ہے۔ ماہرین نے چینی طرز پر بنائی گئی اس فورس کو ہنگامی صورتحال کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

دہائیوں سے سرحد پار درست حملوں کی صلاحیت صرف فضائی افواج کے پاس تھی، مگر اب پاکستان آرمی اس صورتحال کو بدل رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس نئی فورس کا اعلان کیا اور کہا کہ ’یہ فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی‘۔ بعدازاں وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ راکٹ فورس پاکستان کی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گی۔

وزیراعظم نے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

لیکن پاکستان میں موجود جوہری طاقتوں کی پالیسیز کے چند ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر رابعہ اختر بتاتی ہیں کہ اس فورس کے آنے سے چھوٹے توپ خانوں والے ہتھیار اور بڑے ایٹمی میزائلوں کے حوالے سے فیصلوں کے درمیان موجود خلا ختم ہو جائے گا۔

ڈاکٹر رابعہ کے مطابق، ’’فتح فور‘‘ زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے اور 750 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ میزائل پاکستان کا پہلا ایسا روایتی (غیر ایٹمی) سسٹم ہے جو طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر رابعہ نے آرمی راکٹ کمانڈ فورس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ فورس خود مختار طور پر کام کرے گی۔ اس فورس سے چھوٹے توپ خانوں والے ہتھیار اور بڑے ایٹمی میزائل فائر کرنے کے حوالے سے موجود خلا ختم ہو جائے گا۔‘ یعنی اب الگ الگ راکٹس اور میزائل چلانے کے لیے الگ الگ اجازتوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آسان الفاظ میں کہیں تو پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ روایتی میزائلز (کرُوز اور بیلسٹک، سب سونک، سپر سونک اور ہائپر سونک)، میڈیم اور لانگ رینج کے راکٹس استعمال کرنے کے لیے خود فیصلہ لے سکے گی۔ اس طرح یہ کمانڈ پاکستان کی فوج کو زیادہ طاقتور اور درست انداز میں دشمن کے اہداف پر حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، یہ کمانڈ پاکستان کی فوج کو زیادہ طاقتور اور درست انداز میں دشمن کے اہداف پر حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ڈاکٹر رابعہ کا کہنا ہے کہ ’اب پاکستان دشمن کے علاقے میں دور تک درست، غیر ایٹمی حملے کر سکے گا، جبکہ ایٹمی ہتھیار صرف ڈرانے اور روکنے کے لیے رکھے گا۔‘

ڈاکٹر رابعہ نے مزید وضاحت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے یہ راکٹ سسٹم مختلف جگہوں سے الگ الگ چلائے جاتے تھے، اب انہیں ایک ہی کمانڈ میں جمع کر دیا گیا ہے، بالکل ویسے جیسے چین کی فورس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان دشمن کی اہم تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی بہتر صلاحیت حاصل کر لے گا، جس سے بھارت کے لیے حملے کی منصوبہ بندی مشکل ہو جائے گی اور پاکستان کی روایتی (غیر ایٹمی) طاقت بھی مزید مضبوط ہو گی۔

#pakistanindependenceday #ConventionalDeterrence
Pakistan’s formation of the new Rocket Force Command, coupled with the unveiling of the Fatah IV, a ground-launched cruise missile with a range exceeding 750 km, marks its first stand-alone conventional long-range strike…

— Rabia Akhtar (@Rabs_AA) August 14, 2025


اس مرکزی کنٹرول کے ذریعے پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ استعمال کر کے انڈیا کے فضائی دفاع، ایئر بیسز اور کمانڈ مراکز کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔

لیکن کیا چین اور پاکستان ہی اس قسم کی کمانڈ فورس رکھتے ہیں؟ جی نہیں ایران، بھارت، شمالی کوریا اور روس میں بھی آرمی راکٹ فورس کمانڈ دیگر ناموں سے موجود ہیں۔

750 کلومیٹر کی طویل رینج رکھنے والے فتح فور کروز میزائل اور اے-100 ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹمز (MLRS) ممکنہ طور پر پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مرکزی حصہ ہوں گے، جو بھارت میں گہرائی تک درست نشانے پر حملے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

نیا ”فتح فور کروز“ میزائل کتنا طاقتور ہے؟
پاکستان آرمی نے 14 اگست کے موقع پر فتح فور کروز میزائل پیش کیا۔ اس سے پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ فتح فور طویل فاصلے تک مار کرنے والا والا گائیڈڈ راکٹ یا بیلسٹک میزائل ہوگا، کیونکہ پہلے کے تمام فتح میزائل گائیڈڈ راکٹ ہی تھے۔

لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان آرمی اپنی طویل فاصلوں پر درست نشانے بازی کی صلاحیت کے لیے زمینی ہدف پر حملہ کرنے والے کروز میزائل کا سہارا لے رہی ہے۔

فتح فور کی رینج 750 کلومیٹر، وزن 1530 کلو گرام، لمبائی 7.

5 میٹر، رفتار ماک 0.7 اور درستگی کا دائرہ 5 میٹر ہے۔

یہ کم از کم 50 میٹر کی بلندی پر پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فتح فور 330 کلو گرام تک کا دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نئی آرمی راکٹ کمانڈ فورس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
آرمی راکٹ فورس کمانڈ پاکستان آرمی کو ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جس کے ذریعے وہ بھارتی فضائی طاقت کو چیلنج کر سکتی ہے (جبکہ فضاؤں میں پاک فضائیہ، بھارتی فضائیہ کا مقابلہ کرے گی)۔

اس طرح پاک فوج کے زمینی لانچرز بھارت کے دور دراز علاقوں میں موجود فضائی اڈوں اور فضائی دفاع کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن جاتے ہیں۔

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے فوج کا تنظیمی ڈھانچہ سمجھنا ہوگا۔

یوریشین ٹائمز کے مطابق، یہ فورس ممکنہ طور پر پاکستان آرمی کے تحت کام کرے گی اور آرمی اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ کے ساتھ متوازی ہوگی جو اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے تحت جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔

یہ الگ انتظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ صرف روایتی فوجی حملوں پر توجہ دے، اور جوہری ہتھیار الگ رہیں۔

پاکستان آرمی کی تشکیل کورز کی بنیاد پر ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف اس کی قیادت کرتے ہیں۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ غالباً ایک نیا کور لیول کمانڈ ہوگا، جس کی قیادت ہر کور کی طرح ممکنہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل کریں گے، جو براہِ راست آرمی چیف کو رپورٹ کرتے ہیں۔

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تنظیم چین کی راکٹ فورس ماڈل (PLARF) سے متاثر ہے، جس میں خصوصی تربیت، حکمت عملی اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ انتظامی طور پر یہ اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے دائرہ کار میں آسکتی ہے، لیکن عملی طور پر آزاد ہے۔

اس چین آف کمانڈ سے انتظامی آپریشنز میں آسانی پیدا ہوگی۔ آرمی چیف سے آرمی راکٹ فورس کمانڈر کو، اور پھر ان سے فیلڈ یونٹس کو احکامات میں سہولت ملے گی۔ جس سے پچھلے آرٹلری ماڈل کے مقابلے میں تیز فیصلہ سازی ممکن ہوگی۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: آرمی راکٹ فورس کمانڈ پاکستان آرمی ڈاکٹر رابعہ پاکستان کی کی صلاحیت فاصلے تک حملے کر فتح فور کرنے کے کے لیے کرے گی

پڑھیں:

جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر

وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت، چیف آف جنرل اسٹاف کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی تقرری پر مبارک باد دیتے ہوئے اس اہم قومی ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

Islamabad, 24 July 2026.

Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has announced the promotion of Lieutenant General Aamer Raza, HI(M), SBt, Chief of the General Staff of Pakistan Army, to the rank of “Four-Star General” and his appointment as “Commander National Strategic… pic.twitter.com/U1Qk2K5nsl

— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 24, 2026

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل عامر رضا اس سے قبل چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور اب انہیں فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ترقی تقرری جنرل عامر رضا شہباز شریف میڈیا ونگ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ ہلال امتیاز وزیر اعظم

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات