پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز کی فہرست جاری، بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز کی فہرست جاری، بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ سرفہرست WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز اور بڑے کاروباری گروپس کی تفصیلات جاری کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان کے امیر ترین کاروباری شخصیت قرار پائے، جبکہ فوجی فاؤنڈیشن گروپ 2 ارب 25 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ٹبہ گروپ 1 ارب 88 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ساتھ تیسرے، پاکستان ٹوبیکو گروپ 1 ارب 18 کروڑ ڈالرز کے ساتھ چوتھے اور ابراہیم گروپ کے میر شکیل ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
آغا خان گروپ 954 ملین ڈالرز، میاں منشاء 920 ملین ڈالرز، اور پیکجز گروپ کے سید بابر علی 1 ارب 60 کروڑ ڈالرز کی دولت کے ساتھ فہرست میں شامل ہیں۔ فاطمہ گروپ کے فواد مختار اور لیک سٹی ہولڈنگ کے مالک گوہر اعجاز بالترتیب ارب پتی کاروباری شخصیات میں شامل ہیں، جن میں گوہر اعجاز 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز کے مالک ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے 40 بڑے ارب پتی کاروباری گروپس اور 20 بڑی پبلک لسٹڈ کمپنیوں کی رینکنگ بھی جاری کی گئی۔ ارب پتی شخصیات میں سردار یاسین ملک، حبیب اللہ خان، شیخ محمد جاوید، عقیل کریم ڈھیڈی، بشیر جان محمد، میاں عامر محمود، نسرین قصوری، جہانگیر ترین اور علیم خان بھی شامل ہیں۔داود گروپ کی مالیت 2 ارب 39 کروڑ ڈالرز، میزان گروپ 2 ارب 38 کروڑ ڈالرز، عارف حبیب گروپ 1 ارب 57 کروڑ ڈالرز، آغا خان گروپ 1 ارب 56 کروڑ ڈالرز، اٹک گروپ 1 ارب 35 کروڑ ڈالرز، پاکستان ٹوبیکو گروپ 1 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز، سفائر گروپ کے میاں عبداللہ اور لاکھانی گروپ 1 ارب 20 کروڑ ڈالرز، ہاؤس آف حبیب 1 ارب 17 کروڑ ڈالرز اور میر ابراہیم گروپ 1 ارب 12 کروڑ ڈالرز کا کاروبار رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 22 کھرب پتی کاروباری خاندانوں میں سے 5 خاندان آج بھی موجود ہیں، جبکہ گزشتہ 50 برس میں 35 نئے ارب پتی کاروباری خاندان سامنے آئے ہیں۔ ارب پتی خاندانوں میں سید بابر علی، حبیب رفیق، حسین داود اور طارق سیگل گروپ شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی حکومت نے فوجی افسران کو گیم شو میں شامل کر کے ادارے کے وقار کو مجروح کردیا مودی حکومت نے فوجی افسران کو گیم شو میں شامل کر کے ادارے کے وقار کو مجروح کردیا رافیل طیاروں کی ناکامی کے باوجود مودی سرکار کی فرانس سے معاہدے کی کوشش موڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ ڈیزل کی قیمت میں 11.50روپے فی لیٹر تک کی کمی، پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان ایوان صدر میں سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازت دینے کی تقریب سبز رنگ، مستقبل کی ترقی کا بنیادی رنگ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی سرمایہ کاری کے ساتھ کروڑ ڈالرز کی پتی کاروباری پاکستان کے گروپ 1 ارب شامل ہیں ارب پتی گروپ کے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔