کراچی؛ غیر قانونی قرار دیکر سیل کی گئی قیام پاکستان سے قبل کی دکانیں ڈی سیل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے نیپئر روڈ پر دکانیں سیل کرنے کیخلاف درخواست پر دکانوں کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیدیا۔
ہائیکورٹ میں نیپئر روڈ پر دکانیں سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ دکانیں پاکستان کی آزادی سے قبل کی بنی ہوئی ہیں۔ اب جاکر ایس بی سی اے والے کہہ ہیں کہ غیر قانونی ہے۔ برابر میں عمارت کو بھی 50 سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے۔
عدالت نے ایس بی سی اے سے استفسار کیا کہ اتنے سالوں سے عمارت بنی ہوئی ہے اب آپ کو خیال آیا کہ غیر قانونی ہے۔ عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی دکان بھی آگے سڑک پر بھڑا دی ہے، جس پر وکیل نے موقف دیا کہ ہم نے ایک انچ بھی دکان کو اگے نہیں بڑھایا ہے۔
عدالت نے ایس بی سی اے کو دکان مالکان کی درخواست پر 3 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔ ساتھ ہی عدالت نے دکانیں ڈی سیل کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔