چائنا میڈیا گروپ اور اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کی مشترکہ میزبانی میں’’صدائے امن‘‘ثقافتی تبادلہ تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
چائنا میڈیا گروپ اور اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کی مشترکہ میزبانی میں’’صدائے امن‘‘ثقافتی تبادلہ تقریب کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چائنا میڈیا گروپ اور اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کی مشترکہ میزبانی میں “صدائے امن” ثقافتی تبادلہ تقریب نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے نائب سربراہ اور چائنا میڈیا گروپ کے صدر شین ہائی شیونگ نے تقریب سے ورچوئل خطاب کیا۔ اس موقع پر چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے منعقدہ “صدائے امن” ثقافتی تبادلہ تقریب کا اوورسیز ایڈیشن باضابطہ طور پر لانچ کیا گیا۔
شین ہائی شیونگ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا ہے کہ سچائی اور تاریخی حقائق وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتے؛ یہ ہمیں ایسی بصیرت دیتے ہیں جو ہمیشہ حال کو روشن اور مستقبل کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ تقریب کے دوران، سی ایم جی نے “فلائنگ ٹائیگرز ان دی سکائی” اور “دی سنکنگ آف دی لزبن مارو” جیسی چینی فلمیں اور ڈرامے پیش کیے۔ سی ایم جی اپنے کثیر پلیٹ فارم، کثیر اللسانی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ سرگرمیوں کی جامع کوریج کرے گا۔
سی ایم جی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو گہرا کرتے ہوئے بالادستی کے خلاف چین کی آواز، انصاف و حق کی وکالت اور مشترکہ بھلائی کے فروغ کو دنیا تک پہنچانا چاہتا ہے، تاکہ ہم یکجہتی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں اور ترقی کے لیے مل کر کام کر سکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکسی کو بلیک میل نہیں کرتے، جوہری صلاحیت دفاع کی ضمانت ہے،خواجہ آصف پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز کی فہرست جاری، بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے... موڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ ڈیزل کی قیمت میں 11.50روپے فی لیٹر تک کی کمی، پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان سبز رنگ، مستقبل کی ترقی کا بنیادی رنگ سبز چین نے انسانی ترقی کے اہم سوال کا جواب دیا ہے، سی جی ٹی این سروے صدر ایف پی سی سی آئی کی قوم کو 78 ویں یوم آزادی کی مبارکباد
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ثقافتی تبادلہ تقریب چائنا میڈیا گروپ اقوام متحدہ
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں